اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 581
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۸۱ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء ہیں۔پس وہ مضمون جس کے لئے مواد ہی نہیں مل رہا تھا۔اتنا مواد اکٹھا ہو گیا کہ اب اس کو سمیٹنا مشکل ہے اس لئے اس میں سے بھی میں نے کچھ حصہ چنا ہے اور جو اہم باتیں میں آپ کے سامنے پیش کرنی چاہتا ہوں وہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے سامنے آج پیش کر سکوں گا۔۔قناعت پر آپ کو کیوں مخاطب کیا جا رہا ہے۔دراصل اس کا تعلق ایثار سے بھی ہے اور ایثار کا مضمون میں نے کل بیان کر دیا تھا۔ایثار کے مضمون میں یہ بھی بیان کیا تھا کہ آج کل خدا تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں بہت تبلیغ ہورہی ہے اور اس تبلیغ کے لئے لوگوں کو ایثار سے کام لینا پڑتا ہے لیکن اگر قناعت ساتھ نہ ہو تو ایثار کا حق ادا کرنا مشکل ہے اور اس کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جرمنی میں بچوں کی تربیت کے لئے قناعت لازم ہے اور قناعت کا جو مضمون لغت سے ثابت ہوا ہے اور اس مضمون کی آیات بھی ملتی ہیں اور روایات بھی ملتی ہیں اس کے نتیجہ میں قناعت کا مضمون آج آپ کے لئے بہت برمحل ہے اور جیسا کہ میں لغت کے استعمال سے ابھی آپ کو دکھاؤں گا کہ لفظ قناعت تو ایسے معنی رکھتا ہے جو بے حد بہت ہی متفرق جگہوں پر اطلاق پاتے ہیں اور ان کا خصوصی تعلق خواتین سے ہے۔یہ بات قرآن کریم کی آیات پر غور سے سمجھ آتی ہے ورنہ سرسری طور پر آپ لفظ قناعت کو ڈھونڈیں گے تو یہ باتیں نہیں ملیں گی۔سب سے پہلے میں آپ کے سامنے لغت کے اعتبار سے بتا تا ہوں کہ قناعت کے کیا معنی اہل لغت نے بیان کئے ہیں اور جو بہت ہی مستند لغت کی کتابیں ہیں جس سے میں نے یہ معنی چنے ہیں۔قانع قناعة کا ایک مطلب ہے۔رَضِی بِمَا أُوتی جو کچھ دیا گیا اس پر راضی ہو گیا۔دوسرا معنی ہے يُسَمَّى السَائِلُ فَإِنَّمَا لِاَنَّهُ يَرْضَى بِمَا يُؤْتی۔اس سائل کو اس مانگنے والے کو قانع کہتے ہیں جسے جو دیا جائے وہ اس پر راضی ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ان معنوں میں قانع کا ایک اور معنی ابھرتا ہے جو میں تفصیلی بیان میں آگے بیان کروں گا۔اس وقت میں صرف عنوانات پڑھ رہا ہوں۔قَنَعَتِ الْإِمْرَءَ ةُ۔عورت نے حجاب پہنا۔یہ قناعت کا اصلی لغوی معنی ہے کیونکہ قناعت کے لفظ میں حجاب شامل ہے۔مرد کے لئے جب وہ ڈھال پہنے اور ڈھال کے پیچھے چھپے اس کے لئے بھی قفع کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔مفردات میں امام راغب فرماتے ہیں کہ بنیادی معنی ہے ہی یہی اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھنا یہ قناعت ہے۔کن معنوں میں آپ پر یہ اطلاق پائے گا اس کی تفصیل میں انشاء اللہ بعد میں بیان کروں گا۔قَنَعَ يَقْنَعُ قُنُوْعاً - سَأَلَ وَتَذَلَّلَ یعنی اللہ کے حضور یہ لفظ اطلاق پاتا ہے لوگوں کے