اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 580
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۸۰ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء قناعت۔ایک نہ ختم ہو نیوالا خزانہ جلسہ سالانہ مستورات جرمنی سے خطاب فرموده ۲۲ اگست ۱۹۹۸ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آپ نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔وَالْبُدْنَ جَعَلْنَهَا لَكُمْ مِنْ شَعَابِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۚ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنُهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ امج : ۳۷) قرآن کریم کی جس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ الحج کی ۳۷ویں آیت ہے۔اس میں اور مضامین کے علاوہ یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَ وہ جو قانع ہے اس کو بھی کھلاؤ اور جو غربت کی وجہ سے پریشان حال ہے اس کو بھی کھلاؤ۔میں نے اس لجنہ کے اجلاس کے لئے بھی قناعت کا مضمون چنا تھا اور کل شام تک تمام علماء جن کو اس مضمون پر آیات اور روایات اکٹھی کرنے کا کہا گیا تھا انہوں نے اپنے ہاتھ اُٹھالئے کہ قانع کا تو صرف ایک ہی جگہ ذکر آتا ہے بلکہ ایک مقنعی کا لفظ ہے جو اور معنی میں استعمال ہوتا ہے اور سارے قرآن کریم میں قناعت کا ذکر ہی کوئی نہیں اور اسی طرح احادیث میں بھی کوئی ذکر نہیں۔یہ بالکل غلط ہے۔بعض دفعہ علماء کو یہ عادت ہوتی ہے کہ لفظ کی پیروی کرتے ہیں مضمون کی پیروی نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم قناعت کے مضمون سے بھرا پڑا ہے اور لفظ قناعت کے نیچے نہیں بلکہ دوسری آیات میں جہاں لفظ قناعت استعمال نہیں ہوا لیکن قناعت کا مضمون استعمال ہوا ہے اور یہ آیات بکثرت ہیں۔میں نے بھی نمونہ دو آیات چھنی ہیں جو آپ کے سامنے رکھوں گا تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ قناعت ہی کا مضمون ہے لیکن الفاظ دوسرے استعمال ہوئے