اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 53
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۳ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء اب جن کی خاوندوں سے علیحد گیاں ہو گئیں تھی گھروں کی مالک بنی ہوئی تھیں لیکن اپنی تنہائی کی وجہ سے اس طرح وہ حول کھا رہی تھیں، ایسی بے قرار تھیں کہ جب بات کرتی تھیں تو آنکھوں سے آنسورواں ہو جاتے تھے اور بکثرت میں نے یہ احساس پایا کہ عورت کی بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس کے مقابل پر مردوں نے اپنے حقوق لینے کا ایک اور طریقہ دریافت کر لیا ہے۔اب وہ کہتے ہیں کہ شادی کر کے جو گھر دینا ہے دوسرے کو اور سارے حقوق دینے ہیں تو بغیر شادی ہی کے کیوں نہ رہو۔نتیجہ وہ تحفظ جس کی عورت کو تلاش تھی جس تحفظ کے حصول کی خاطر اُس نے اپنے مطالبات میں اتنی شدت کی کہ مرد کا تحفظ اُڑ گیا۔اب وہ سب کچھ عورت کے ہاتھ سے جاتا رہا ہے۔اب وہاں جو غیر قانونی بچے پیدا ہورہے ہیں وہ یورپ میں سب سے زیادہ ہیں سکینڈے نیوین کنٹریز میں اور یہ وہ ہیں جو علم میں آتے ہیں اور باقاعدہ رجسٹر ہوتے ہیں۔تقریباً ستائیس فیصدی بعض ممالک میں بچے ہر سال ایسے ہوتے ہیں جو قانونی طور پر غیر قانونی کہلاتے ہیں اور جو قانون کے علم میں نہیں آرہے ان کی تعداد اس کے سوا ہے اور بہت زیادہ ہے۔کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ مردوں کو یہ ترکیب سوجھی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں اچھا ہم شادی نہیں کرتے۔اس کے دو بھیا نک نتائج نکلے ہیں اور وہ دونوں اتنے خطرناک ہیں کہ اس نے عورت کے مستقبل کو بالکل تاریک کر دیا ہے۔اول یہ کہ بغیر شادی کے تم ہمارے ساتھ رہتی ہو تو ہو اور جب ہم چاہیں گے تمہیں الگ کر دیں گے۔تم ایک Concubien ہو، ایک مسٹریس ہو۔اس سے زیادہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں بچے پیدا ہوں گے تو سٹیٹ تمہیں حق دے گی میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔اگر چہ قانونی طور پر ایسی بحثیں چلتی ہیں کہ عورت ثابت کرے کہ اس مرد کا بچہ ہے اور اس سے حقوق لینے کی کوشش کرے مگر یہ سارے بعد کے قصے ہیں۔عملاً جو ہورہا ہے وہ یہ کہ عورت کے لئے اب کوئی امن کی ضمانت نہیں رہی وہاں اس پہلو سے۔دوسرا خطر ناک پہلو جو صرف سکینڈے نیوین کنٹریز میں نہیں بلکہ دنیا کی دوسری مغربی ریاستوں میں بھی بڑی تیزی سے پیدا ہو رہا ہے وہ مردوں کا مردوں کی طرف رجحان اور عورتوں کا عورتوں کی طرف رجحان ہے۔یعنی عورتیں تنگ آکر اس معاشرے سے یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ہمیں مرد کی ضرورت نہیں۔ہم اُس سے پوری آزادی کیوں نہ حاصل کر لیں۔اس لئے ہم اپنی محبت اور رحمت اور شفقت اور سکینت کے تقاضے بجائے مردوں میں ڈھونڈنے کے عورتوں میں ڈھونڈتی ہیں اور Lesbianism کہلاتا ہے یہ۔بڑی تیزی کے ساتھ اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ یورپ کی عورتوں