اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 542

۵۴۲ خطاب ۶ ا ر ا گست ۱۹۹۷ء حضرت خلیفہ اسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات نور کا قرآن کریم میں بھی ذکر ملتا ہے وہ نور ہے جو آگے آگے دوڑتا ہے اور جہاں پڑتا ہے اسے روشن کرتا چلا جاتا ہے اس نور کا عملی نظارہ حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور جس پیار سے دیکھ رہی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس پیار کی وجہ سے اور اس شعر کی وجہ سے جو آپ نے پڑھا آپ نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا خدا کی قسم! جو مجھے لطف آیا ہے تمہاری ان پیاری باتوں سے ایسا لطف تمہیں بھی نہیں آیا ہو گا یہ آپ کی ازدواجی زندگی کے حالات ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ محبت جو خدا کے لئے ہو، وہ لذتیں جو خدا کی خاطر ہوں، ان محبتوں اور لذتوں کے کیا رنگ ہوا کرتے ہیں۔جہاں تک دل کی خوشی کا تعلق ہے جہاں تک لذت کا تعلق ہے یہ محبتیں اور ان کے اثرات لاثانی ہو جاتے ہیں۔یہ نہ مٹنے والے ہیں وہ محبتیں جو انسانی محبتیں خدا کی محبت سے الگ دل میں زور مارتی ہیں وہ فانی محبتیں ہوا کرتی ہیں۔آج آئیں اور کل مٹ گئیں ان محبتوں میں لازماً رفتہ رفتہ ایک انحطاط واقع ہو جاتا ہے کوئی ایسا جوڑا نہیں جس کی زندگی میں ہر لمحہ پہلے سے بڑھ کر محبت نے زور دکھا یا ہوسوائے اس کے کہ وہ محبت جسمانی نہ ہو اور روحانی اور پاکیزہ ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت اپنی ازواج کے لئے ایک روحانی معنی رکھتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ حضرت عائشہ جو ایک نو جوان بچی اور ایسی پیاری پیاری باتیں کرنے والی ذہین بچی تھی، جب خدیجہ کے متعلق آپ نے زبان کھولی ہے تو آپ نے اسے روک دیا فرمایا! خدیجہ جیسی کوئی خاتون نہیں تھی۔تو اپنی محبتوں کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کریں اور یہی محبتیں ہیں جو آپ کے دل آپ کے وجود کو پاکیزہ کر دیں گی آپ کی کیفیت بدل جائے گی۔یہ وہم ہے کہ اس سے آپ کو کوئی قربانی ان معنوں میں کرنی پڑے گی کہ آپ ایک بے سرور زندگی بسر کریں، ایک خشک مولوی کی طرح بن کر گھر میں ٹھہریں اور کوئی زیر و بم آپ کی زندگی میں نہ رہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ الہی محبتوں میں جو سرور انسان کو نصیب ہوتا ہے وہ دائمی ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے رہتا ہے اور دنیا کی محبتیں آنا فانا آتی جاتی رہتی ہیں وہ کچھ اثر چھوڑتی ہیں پھر اگلی دفعہ اس سے کم اثر اس سے اگلی دفعہ اس سے کم اثر یہاں تک کہ سب محبتیں پرانی ہو جاتی ہیں مگر ایک محبت ہے کہ الہی محبت ہے جو محد رسول اللہ کو خدیجہ سے تھی وہ محبت بھی پرانی نہیں ہوگی حضرت عائشہ کا اپنا کر دار کیا تھا دنیا سے آپ کو کیا تعلق تھا اور دنیا کی نعمتوں کو کس نظر سے دیکھا کرتی تھیں اس کے متعلق حضرت امام مالک اپنی مشہور کتاب موطا میں لکھتے ہیں۔اور یہ موطا ایک ایسی کتاب ہے جو صحت کے لحاظ سے بخاری سے بھی اوپر درجے کی کتاب ہے ہر حدیث نہایت ہی عمدگی اور احتیاط کے ساتھ چنی ہوئی اور ایک ایک