اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 537
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۷ خطاب ۶ ا ر ا گست ۱۹۹۷ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوایسا غم نہیں پہنچا جیسا حضرت خدیجہ کی وفات سے۔صحیح بخاری میں ہے۔خَيْرُ نِسَاء هَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَاء هَا خَدِيجَةُ بِئْتُ خَوَيْلَدَ موسوی امت کی بہترین خاتون مریم تھیں جو آل عمران میں سے تھیں اور اس امت کی بہترین خاتون خدیجہ بنت خویلد ہیں۔پس خدیجہ کے ذکر سے آپ کے لئے ایک ایسا نمونہ قائم ہوتا ہے جو پاکیزگی میں، وفا میں، سادگی میں ، انکسار میں سخاوت میں اپنی مثل آپ ہو۔حضرت خدیجہ بہت امیر خاتون تھیں مگر خاوند کا جو احترام محض خاوند کا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جو احترام آپ کے دل میں تھا اس کے نتیجے میں آپ نے پہلے دن ہی شادی کے پہلے دن ہی اپنا جو کچھ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اس میں میں آپ کی انتہائی ذہانت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔حضرت خدیجہ جانتی تھیں کہ ایک ایسے غیرت مند انسان سے میں شادی کر رہی ہوں جو بیوی کے مال پر نہیں پل سکتا اور یہ بالکل درست ہے وہ مرد جو بیویوں کے مال پر پلتے ہیں اور انہیں اس طرح قبول کرتے ہیں گویا کہ وہ ان کے لئے مرجع و مال کی ہے ماں کے دودھ کی طرح ان کے لئے جائز ہے وہ ایسے مردا کٹر کھٹو اور بے کار بنتے ہیں اور ان کی مردانگی کی صفات ختم ہو جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بیوی کے مال پر پلنے والے مرد، مرد ر ہتے ہی نہیں اور جرمنی میں ایسے بہت ہیں جو بیوی کے مال پر پل رہے ہیں۔ان کو میں بتارہا ہوں کہ حضرت خدیجہ تمہارے لئے بھی نمونہ ہیں اور تمہاری بیویوں کے لئے بھی لیکن حضرت خدیجہ نے جو اپنا مال قربان کیا تھا یہ مطلب نہیں کہ ہر بیوی اپنے نکھٹو خاوند پر اپنا مال قربان کر دے یہ نکتہ ہے جو آپ کو سمجھانے والا ہے۔حضرت خدیجہ نے ایسے خاوند کے لئے مال قربان کیا تھا جو کسی قیمت پر بھی چاہے کتنے ہی فاقے دیکھنے پڑتے اپنے بیوی کے مال پر نہیں پل سکتا تھا اگر ایسے خاوند ہوں تو ان کے لئے بے شک اپنے مال جان کو قربان کریں مگر وہ جو آپ کے مال پر اپنا حق سمجھتے ہیں، جو آپ کے مال پر زندہ رہنے میں فخر محسوس کر رہے ہیں اور اگر آپ ان سے ہاتھ کھینچیں تو وہ آپ پر سختی کرتے ہیں ایسے مردوں کو اگر آپ کچھ کوڑی عطا کرتی ہیں تو آپ کی مرضی آپ کی فراخ دلی ہے مگر حضرت خدیجہ کا غلط معنی نہ سمجھنا۔چنانچہ حضرت خدیجہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا تھا ویسا ہی پایا آپ نے خدیجہ کا مال لے کر کسی ایسی خوشی کا اظہار نہیں کیا کہ میں کل تک غریب تھا اور اب امیر ہو گیا ہوں۔آپ نے