اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 510
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۱۰ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء احسان کی تلاش کا سفر ہے۔صبح اُٹھیں تو خدا کی یاد کو دل میں لگائیں۔خدا کی یاد سے دل کو معمور کریں اُس کو معطر کریں۔دن بھر پھیریں۔تو اللہ تعالیٰ کی یاد آپ کا ساتھی بن جائے جس کے بغیر آپ رہ نہ سکیں۔سوئیں تو اس کو سوچتے ہوئے سوئیں، جاگیں تو اُسکے خواب دیکھتے ہوئے اُٹھیں یہ وہ آخری مقام ہے جس کی طرف ہمارا محبتوں کا سفر ہمیں لے کر جائے گا۔اور اگر یہ ہمیں نصیب ہو جائے۔تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وہ مقام اور مرتبہ عطا فرمائے گا کہ آپ کہہ سکیں۔جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہوگیا یہ وہ تمام منازل ہیں جن کی تفاصیل میں بیان نہیں کر سکا بہت وسیع مضمون ہے۔لیکن اس پر میں اب اس تقریر کو ختم کرتا ہوں کیونکہ مجھے چھیاں مل رہی ہیں کہ تمہارا اگلا پروگرام شروع ہو چکا ہے۔اور لوگ انتظار کر رہے ہیں۔مگر جس طرح بھی ، جب بھی خدا تعالیٰ توفیق دے گا میں آپ کو یہ یادہانی کرواتا رہوں گا۔اور کوشش کروں گا کہ آپ کو سمجھاؤں کس طرح اللہ کی سچی محبت کو دل میں جگہ دی جاسکتی ہے۔اگر ہمیں خدا سے محبت ہو جائے تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں۔کچھ بھی باقی نہ رہے۔دُنیا بھی ہماری آخرت بھی ہماری۔ہماری اولادیں بھی سمجھ سنور جائیں گی، ہمارا ماحول بھی خوشگوار ہو جائے گا۔حقیقت میں دنیا کو جنت بنانے کا ایک ہی راز ہے۔کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں بسالیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں بسنا سیکھ لیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی تو فیق عطا فرمائے۔آئیے اب دُعا کر لیں۔دعا یہی کرلیں جو رسول اللہ نے ہمیں سکھائی ہے۔اس کی عربی تو آپ کو نہیں آئے گی لیکن اُردو میں میں وہ دعا بتا دیتا ہوں کہ خدا تو اپنی محبت کا رزق ہمیں عطا فرما۔اپنی محبت ہمارے دل میں ڈال دے۔ہر اُس چیز کی محبت ہمارے دل میں ڈال دے جو تجھ سے محبت کرتی ہے۔ہر اُس چیز کی محبت ہمارے دل میں ڈال دے جس سے تو محبت کرتا ہے۔ہر اس چیز کی محبت ہمارے دل میں ڈال دے جو تیری محبت کی طرف لے کے جاتی ہے۔اے خدا اپنی ایسی محبت ہمارے دل میں اُتار ، ہمارے دل پر قابض کر دے کہ جس کے سامنے نہ ماں کی محبت رہے، نہ باپ کی محبت رہے نہ عزیز نہ رشتے دار نہ دوست کی۔ہر دوسری محبت پر تیری محبت غالب آجائے اور آخر پر یہ کہ اے خدا اُس پانی کی محبت سے بھی بڑھ کر ، ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنی محبت عطا کر جو پیاسے کو پانی سے ہوا کرتی ہے جب پیاس سے دم توڑنے کے قریب ہو۔تو اس دُعا کے ساتھ ہم اس اجلاس کی کاروائی کو ختم کریں گے۔۔۔آمین۔