اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 509

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۹ وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء فسبحان الَّذِي أَخْرَى الأَعَادِي ( در شین : ۵۴) یہ جو حضرت مسیح موعود کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی آندھی اُٹھی ہے اور اتنازور پکڑا ہے کہ آپ خدا کے حضور عرض کرتے ہیں کہ مجھ میں تو اب طاقت نہیں رہی کہ اس کو برداشت کرنے کی۔میرا دل چاہتا ہے کہ تیری محبت کی آندھی جو میرے دل میں اُٹھی ہے۔میں اپنی ذات کی خاک اس آندھی میں اُڑا دوں۔اور میری خاک کا ذرہ ذرہ تجھ پر فدا ہو جائے۔اور خدا نے پھر آخر آپ کو وہ مقام عطا فرما دیا ع جس مقام پر پہنچ کر آپ نے کل عالم میں یہ اعلان کیا۔جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا کتنا عظیم دعوی ہے لیکن عرفان کے ایک لمبے سفر کے بعد انسان کو یہ دعوئی نصیب ہوتا ہے۔اُس سے پہلے ممکن نہیں ہے۔آپ نے وہاں تک پہنچنا ہے۔خدا کی محبت کی آخری منزل ہے جہاں تک پہنچ کر خدا نے خود حضرت مسیح موعود کو مجاز فرما دیا۔کہ اب اُٹھ اور دنیا میں یہ اعلان کر دے کہ جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہوگیا ( در تمین صفحه: ۱۵۸) پس جو کچھ آپ کا ہے وہ سب خدا کا کریں گی تو خدا آپ کا ہوگا۔اور جب خدا آپ کا ہوگا تو وہ سب کچھ جو اس کا ہے وہ سب آپ کا ہو جائے گا اُس کی ساری کائنات آپ کی ہو جائے گی۔اس کی ملکیت میں آپ شریک ہو جائیں گے کیونکہ وہ آپ کو شریک کرے گا۔اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود سورۃ فاتحہ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی جو آخری منزل ہے وہ کامل طور پر محمد رسول اللہ کو نصیب ہوئی ہے۔خدا نے اپنی ملکیت میں کسی اور نبی کو اس شان سے شامل نہیں کیا جس شان سے محمد رسول اللہ کو شامل کیا۔کیونکہ آپ نے اپنا سب کچھ خدا کے سپر د کر دیا۔تو سپردگی کی منزل تو بعد کی ہیں لیکن پہلے احساس کا وہ سفر تو شروع کریں جو خدا تعالیٰ کے حسن و