اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 479
حضرت خلیلہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۷۹ خطاب ۲۷ ؍جولائی ۱۹۹۶ء میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتی ہوں۔وَحُبَّ مَن یحبک اور اس کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔یعنی انبیاء اور وہ لوگ جو سچے دل سے خدا سے محبت کرتے ہیں۔اے خدا ہمارے دل میں ان کی محبت بھی ڈال دے۔وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اور اس عمل کی محبت بھی ہمارے دل میں پیدا کر دے جو تیری محبت پیدا کرنے والا عمل ہے۔ہر وہ کام ، جس کے نتیجے میں تیری محبت پیدا ہوتی ہو اور اُن کاموں میں سے بنی نوع انسان کی خدمت، ایک دکھیا کا دکھ دور کرنا، ایک مصیبت زدہ کی مصیبت کو ٹالنا ، اپنی خوشیوں میں کسی کو شریک کرنا، یہ سارے وہ کام ہیں جو اللہ کی محبت پیدا کرتے ہیں۔اس کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے آپ نے فرمایا! کہ وہ یہ بھی دعا کیا کرتے تھے۔اس عمل کی محبت میرے دل میں ڈال دے جو عمل تیری محبت پیدا کرتا ہے۔اور سب سے آخر پر یہ وَ اجْعَلُ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِ اے میرے رب ! اپنی محبت کو مجھے اپنے نفس کی محبت سے زیادہ کر دے۔اپنے نفس کی محبت سے بڑھا دے اور اپنے اہل کی محبت سے بھی بڑھا دے یعنی وہ جو قرآن کریم نے مضمون بیان فرمایا ہے یہ اس پر آکر اس دعا کی تان پہنچتی ہے۔وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ مجھے اپنی محبت عطا کر ٹھنڈے پانی کی بات یہ ہے کہ حقیقت میں کوئی ایسا دل کو لذت نہیں پہنچاتا اور سکون نہیں بخشتا جیسا ٹھنڈا پانی ہے اور جب پیاس کی شدت سے جان ہونٹوں تک پہنچتی ہو تو اس وقت Coka Cola کی ضرورت رہتی ہے نہ کسی جوس کا خیال آتا ہے بلکہ کوئی پیش کرے تو نفرت پیدا ہوتی ہے۔ٹھنڈے پانی کی ایک بوند کے لئے جیسا تڑپتا ہے اس کی کوئی اور مثال کسی مشروب کی لذت میں نہیں رہتی۔تو فرمایا! کہ جو اپنی جان سے زیادہ گھونٹ پیارے ہو چکے ہوں یا جب جان کی طلب بھی ایک گھونٹ پانی کے سوا کچھ نہ رہی ہو۔اس وقت ایک گھونٹ سے زیادہ اپنی محبت تمہارے دل میں پیدا کرے۔مرتے ہوئے ، جان بچانے کے لئے ایک پیالہ ہے جوٹھنڈے پانی کا جو آپ کی جان بچا سکتا ہے۔اللہ کی محبت ایسے غالب ہو کہ اس وقت بھی اپنی ہاتھوں سے انسان پھینک دے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔آپ کہتے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مقام تو بہت بلند تھا۔آپ نے تو اپنے غلاموں کے دل میں بھی یہی بات پیدا کر دی تھی اور حیرت انگیز طریق سے پیدا کر دی تھی۔ایک جہاد کے موقع پر کچھ صحابہ قریب قریب زخمی پڑے تھے اور شدت پیاس سے چونکہ بہت