اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 474
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۴۷۴ خطاب ۲۷ ؍جولائی ۱۹۹۶ء انسان اپنے ذاتی تجربے سے محسوس کر سکتا ہے یہ نبیوں کے لئے خاص نہیں ہے۔اس مضمون کی عظمت اور رفعت جیسے نبیوں پر ظاہر ہوتی ہے میں جانتا ہوں کہ ویسے کسی اور پر نہیں ہوتی اور نبیوں میں بھی سب سے بڑھ کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر لیکن ہر انسان سے خدا کا یہ تعلق ہے اور ہر انسان کے لئے خدا جھک جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر پیار کے لائق کون ہوسکتا ہے؟ اور لوگ ہیں جو عمر میں جلا دیتے ہیں بنی نوع انسان کی محبت میں اس کی چاہت میں ، ان کی محرومیوں کے شکار ہو کر اپنا سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں اور وہ محبت اگر حاصل بھی ہو جائے تو چند دن کی بات ہے۔یا وہ محبت کرنے والا مر جائے گا یا جس سے محبت کی جاتی ہے وہ مرجائے گا۔یا اس کو حادثہ پیش آجائے گا یا اس کو حادثہ پیش آ جائے گا۔یا دونوں کے پیارے ہاتھ سے دیکھتے دیکھتے نکل جائیں گے۔حادثے کا شکار ہوں بچے آنکھوں کے سامنے ہاتھوں سے چلے جاتے ہیں۔تو محبت آپ کو کیا دے گی؟ دنیا کی محبت تو بے سکونی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔اگر تعلق بھی ہے، پیار بھی ہے، صحتیں بھی اچھی ہیں، مزاج بھی اچھے ہیں تو ہر روز کی جدائیاں ایک مصیبت ہیں۔صبح سے خاوند نکلتا اور بعض دفعہ رات گئے گھر واپس آتا ہے بیوی بے چاری اکیلی گھر بیٹھی رہتی ہے۔بچے ہو جائیں تو شاید کچھ دل بہل جائے مگر ہر محبت کے اپنے تقاضے ہیں۔ہر انسانی محبت ایسی ہے جو اپنی ذات میں ایک خاص نوعیت رکھتی ہے دوسری محبت اس کا بدل نہیں ہوا کرتی۔تو آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے عورت! تیرا بچہ مرگیا تو کیا تیرا خاوند تو زندہ ہے ، کہے گی تم پاگل ہوگئے ہو، بچہ اور ہے خاوند اور ہے۔کسی کا بھائی فوت ہو جائے تو اور تکلیف ہوتی ہے۔بیٹا موجود ہو تب بھی بھائی کی تکلیف تو نہیں جاسکتی مگر خدا تعالیٰ کی محبت کے رنگ عجیب ہیں وہ ہر محبت پر غالب ہیں۔ہر قسم کی محبت عطا کرتا ہے اور اپنے محبوبوں کو بھی ویسا ہی بنادیتا ہے اس لئے خدا کی محبت کے نتیجے میں بنی نوع انسان کی محبت ہر گز کم نہیں ہوتی بلکہ ایسے رنگ میں بڑھتی ہے کہ اس سے پہلے آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔اب میں نے ایک مثال دی تھی ایک بدصورت شخص جس پر کوئی پیار کی نظر ڈال نہیں سکتا۔کہیں رشتے کا پیغام دے تو کوئی اس کا جواب نہیں دے گا۔جہاں بھی جائے لوگ اگر با اخلاق ہیں تو ہلکے طریقے پر نظریں ایک طرف پھیریں گے اگر بد اخلاق ہیں تو پیٹھ پھیر کر بیٹھ جائیں گے اس کو اور بھی تکلیف پہنچائیں گے لیکن دیکھیں! حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کیا انداز تھا۔آپ نے جب خدا سے محبت کی تھی تو کیا بن کر ابھرے ہیں، کیا بن کر لوٹے ہیں آسمان سے۔مدینے کی گلیوں میں ایک