اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 461

حضرت خلیفتہ اسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۶۱ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء ہیں۔اگر ماؤں کے ظاہر کی بات اور ہو اور دل کی بات اور ہو یعنی دل میں خواہ کیسا ہی ایمان کیوں نہ ہواگر بیرونی سفر دوسری طرف کا شروع ہو چکا ہو تو بچے وہ بھی دیکھتے ہیں اور دل کو بھی دیکھتے ہوں گے کیونکہ بارہا ان کی طرف سے ایمان کے اظہار بھی ہوتے ہیں۔مگر کمزوری انسانی فطرت کی کمزوری ہے کہ نیچے کی راہ کی طرف بہتا ہے جیسے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے اس لئے جب دو طرح کے رجحانات بچوں کو دکھائی دیں تو ہمیشہ نسبتاً آسان رجحان کو قبول کرتے ہیں، جس سمت میں بہنا ان کے لئے زیادہ آسان ہے۔پس تربیت میں یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ماں نیک ہو اور باپ بد ہو تو بچوں کے لئے خطرہ ہے کہ باپ کی بدی کو اختیار کر لیں۔باپ نیک ہو اور ماں بد ہو تو بچوں کے لئے خطرہ ہے کہ ماں کی بدی کو اختیار کر لیں۔پس دونوں کے لئے یکساں ہونا اور برابر قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا بہت ضروری ہے لیکن کیسے تربیت والے مہیا کئے جائیں؟ کہاں ہر ایک خاندان پر ایک نگران مقرر کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر ہو بھی تو ناصح کی نصیحت سے تو لوگ طبعا دور بھاگتے ہیں اور نصیحت کے انداز بھی تو سب کو معلوم نہیں ہوتے۔بعض لوگ تو نصیحتیں اس طرح کرتے ہیں جیسے روڑے مار رہے ہوں اور مشکل یہ ہے کہ خواتین میں روڑے مارنے کا رجحان مردوں سے زیادہ ہے۔وہ جب نصیحت کرتی ہیں تو اثر یہ پڑتا ہے کہ طعنے دے رہی ہیں۔اثر یہ پڑتا ہے کہ ہماری بھلائی مقصود نہیں اپنی بڑائی جتانا مقصود ہے۔یہ جتلانا مقصود ہے کہ دیکھو ہم اس معاملے میں تم سے بہتر ہیں اور تم بہت ہی ذلیل قسم کی چیز ہو جو ایسا گندہ نمونہ دکھاتی ہو۔ناک بھوں چڑھا کر اگر وہ بات کریں تو اس بات کا دل پر نیک اثر تو کیا ہوگا الٹا بداثر ہوگا اور ایسی عورتیں پھر نصیحت کرنے والیوں سے اور بھی دور ہٹ جاتی ہیں اور ردعمل کے طور پر ایک اور بہت ہی خوفناک رجحان پیدا ہو جاتا ہے کہ ہر نصیحت کے بدلے ایسی عورتیں جن کے اندر کمزوریاں پائی جائیں یا وہ اچھوں پر نظر ڈال کر اُن کی کمزوریوں کی جستجو کرتی ہیں اور کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہر کمزوری سے پاک ہو پھر وہ باتیں بناتی ہیں وہ کہتی ہیں دیکھو جی آئی تھی گھر سے بڑی نصیحت کرنے والی۔ہم پر یہ طعن کئے اور اپنا یہ حال ہے۔ہمیں پتہ ہے جو اندر ہو رہا ہے۔پھر یہ ساری باتیں نصیحت کی باتیں نہیں ، یہ تو معاشرے کو چھید دیتی ہیں۔جہاں ایک دو سوراخ تھے وہاں سوراخ اتنے ہوتے چلے جاتے ہیں کہ معاشرہ چھلنی بن جاتا ہے۔کوئی نیکی کی بات اس چھلنی میں نہیں ٹھہرتی۔سیہ وہ مسائل تھے جن پر غور کرتے ہوئے جب میں کینیڈا کے اجلاس میں بیٹھا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس طرح ان باتوں کا ذکر چھیڑوں اور کیا کہوں کہ اتنے میں وہ نظم جوا بھی آپ کے سامنے پڑھی گئی