اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 444
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۴۴ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء اسے ملازم رکھ لیں۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی کو حضرت شعیب نے یعنی یہ نبی شعیب نہیں بلکہ دوسرے شعیب ہیں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا کہ جاؤ اس کو بلالا ؤ اب معلوم ہوتا ہے کہ جس نے مشورہ دیا تھا بعید نہیں کہ اس کو بھیجا ہو۔اس دفعہ جب وہ گئی ہے اور اکیلی گئی ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے۔تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء (القصص: ۲۶) وہ حیاء سے لجاتی ہوئی لچکتی ہوئی گئی۔اب صاف پتہ چلتا ہے کہ وہی لڑکیاں اپنی طرف کھینچنے کی طرف ان کا کوئی رجحان نہیں تھا۔سیدھی سادھی باتیں کر رہی تھیں مگر جب اکیلی گئی ہے تو شرما گئی اور اس شرمانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءِ کر کے بڑے خوبصورت انداز میں فرمایا ہے۔ظاہر ہے کہ وہ شرمانا اس کو غیر معمولی حسن بخش رہا تھا۔پس جب وہ دونوں حضرت شعیب کے گھر پہنچے ہیں تو حضرت شعیب نے یہ نہیں فرمایا تم میرے ملازم ہو جاؤ۔آپ نے فرمایا میں اس شرط پر ان دونوں میں سے ایک سے تمہاری شادی کرنے پر آمادہ ہوں کہ تم کم از کم آٹھ سال میری خدمت کرو اور چاہو تو دو اور بڑھا دو اور دس سال کر دو۔اب حضرت شعیب کی عمر چونکہ زیادہ تھی اس لئے انہوں نے اندازہ لگایا کہ آگے آٹھ دس سال میں زندہ رہوں گا اس عرصے میں میرے سارے کام ہوتے رہیں گے اور اگر چہ یہ امین ہے اگر چہ یہ با اخلاق انسان ہے مگر پھر بھی ایک گھر میں دولڑکیوں اور ایک مرد کا اکٹھا رہنا مناسب نہیں ہے۔اس ساری کہانی سے بہت سی باتیں مترشح ہیں بہت سے سبق ہمیں ملتے ہیں لیکن جو بات آج میں بیان کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حیاء کا ذکر کیسے عمدہ موقع پر فرما رہا ہے۔یہ حیاء اس کے لئے جاذب نظر تھی، کشش کا موجب تھی اور بعید نہیں کہ جس طرح قرآن نے بیان فرمایا ہے اسی بچی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شادی ہوئی ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کا دیکھیں کیسا عمدہ نقطہ ہمارے سامنے رکھا کہ مرد ہو یا عورت جس میں حیاء ہو وہ اچھی لگتی ہے۔حضرت ابو مسعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں۔بخاری کتاب الادب سے یہ روایت لی گئی ہے کہ سابقہ انبیاء کے حکیمانہ اقوال میں سے جولوگوں تک پہنچتے رہے ایک یہ ہے کہ جب حیاء اٹھ جائے تو پھر انسان جو چاہے کرتا پھرے۔الفاظ یہ ہیں۔ادْلَمُ تَسْتَحْى فَاصْنَعُ مَا شِئْتَ