اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 439
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۳۹ پر دے میں آ گیا تب ان کی مدد کی کہ وہ اٹھیں اور محفوظ جگہ پر پہنچیں۔خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء ابوداؤد کتاب اللباس میں یہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ایسے مردوں پر بھی لعنت بھیجی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔اب یہ وہ باتیں ہیں جہاں تک میں نے اس زمانے کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اس زمانے کے معاشرے میں پڑھنے میں بھی نہیں ملتیں لیکن آج کے زمانے میں یہ ایک عام بات ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی احادیث واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ حضرت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ زمانے کی بالکل واضح خبریں اللہ تعالیٰ سے پائیں اور انہیں اس طرح وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ جیسا آج کل کی Society کو دیکھ کر کوئی وہ باتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہا ہو۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گویا کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب عورتیں مردوں جیسے لباس پہنیں گی اور مردوں جیسی ادا ئیں اختیار کریں گی اور اسی میں وہ اپنی برتری سمجھیں گی کہ ہم زیادہ جدید خیالات کی عورتیں ہیں، ہمیں پرانے زمانے کی باتوں کی پرواہ نہیں رہی اور ان کی جدت پسندی مردوں میں بھی پائی جائے گی اور مرد عورتوں کی طرح پھریں گے اور یہ امر واقعہ ہے کہ بعض دفعہ دکانوں پر کوئی جارہا ہو تو پیچھے سے دیکھ کر پتہ نہیں چلتا کہ یہ مرد ہے کہ عورت ہے اور مڑیں تو پھر بھی کچھ دیر کے بعد پتہ لگتا ہے۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک جگہ ہم سفر پر تھے تو ہمارے ساتھیوں میں یہ گفتگو چل پڑی کسی شخص کو دیکھا کہ یہ مرد ہے کہ عورت ہے۔کچھ نہیں پتہ چل رہا تھا۔میں نے کہا چھوڑ واس جھگڑے کو تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تم کون سا عدالت میں بیٹھے ہوئے یہ فیصلے دے رہے ہو اور تمہارے فیصلوں سے بھی کیا فرق پڑ جائے گا۔لیکن یہ دراصل ایک قدرتی تعجب کی بات تھی اس لئے ان کو اس بات میں دلچسپی پیدا ہوئی ورنہ فی ذاتہ عورت یا مرد کے چہروں میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔لیکن تعجب ضرور تھا کہ ایک ایسا شخص دکھائی دے رہا ہے جس کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے کہ یہ عورت ہے کہ مرد ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لعنت بھیجی ہے اس لعنت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اتنا نا پسند فرماتے تھے کہ اسلامی معاشرے سے اس کو دور رکھنا چاہتے تھے۔لعنت کوئی گالی کے طور پر نہیں ہے بلکہ لعنت کا مطلب ہے دور ہٹی ہوئی چیز کہ اے خدا! اس بلا ، کو اس بیماری کو ہم سے دور رکھ لیکن مجھے افسوس ہے کہ بسا اوقات اگر بسا اوقات نہیں تو کبھی کبھارضرور احمدی بچیوں میں