اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 438
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۳۸ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء کے جذبات سے نہ کھیلا جائے اور ان کی دبی ہوئی آگوں کو بھڑکایا نہ جائے ایسی جگہ میں اس قسم کے واقعات یا تو ہوتے ہی نہیں یا بالکل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔اب ربوہ کا ایک ماحول ہے۔آپ اس ماحول کو دیکھیں یہ درست ہے کہ کوئی بھی Society گناہوں سے پاک نہیں ہے، ہم ربوہ کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ایک گناہوں سے پاک بستی ہے مگر جب ہم دوسری بستیوں سے مقابلہ کرتے ہیں تو زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔وہاں عورت کا ایک احترام پایا جاتا ہے اور اس عورت کے احترام کا Credit اس کی خوبی مردوں کو نہیں بلکہ خود عورتوں کو جاتی ہے۔جنہوں نے اس شہر میں اپنے آپ کو سنبھال کے رکھا ، بے وجہ گلیوں میں اپنے حسن کی آزمائش نہیں کرتی پھرتیں بلکہ سلیقے سے اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھتی ہیں اور چلتی ہیں تو وقار سے چلتی ہیں اس لئے اگر کوئی نظر بیمار بھی ہو تو ایسی عورتوں کو پڑھ کر شفا پا جاتی ہے نہ کہ اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اور جو نقشہ کھینچا ہے وہ تو آج کل کا نقشہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس زمانے میں مکے اور مدینے کے گلیوں میں اس قسم کی عورتیں شاذ ہی دکھائی دیتی ہوں گی جن کا نقشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھینچ رہے ہیں اور بالوں کو کو ہانوں کی طرح بنالینا اور بھی بہت ایسی تفاصیل ہیں جو احادیث میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کشف یا رویا میں یہ نظارے دکھائے تھے۔بخاری سے ایک اور حدیث حضرت انس بن مالک کی مروی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ عسفان سے واپسی کے وقت ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر حضرت صفیہ بیٹھی ہوئی تھیں۔اونٹنی کے ٹھو کر کھانے کی وجہ سے دونوں گر پڑے اور ابوطلحہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دینے کے لئے لیکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کا خیال کرو۔یعنی مجھے چھوڑو۔میرا احترام اور عزت اپنی جگہ مگر جہاں حادثے ہوں وہاں سب سے پہلے عورت کا خیال رکھنا چاہئے۔اس سے ایک تو یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں صنف نازک کا کتنا خیال تھا۔سب سے دنیا کی مقدس سب سے معزز ہستی خود وہ تھے اور تبھی خیال گزرتا ہے کہ اگر بچانا ہے تو سب سے پہلے آپ کو بچایا جائے لیکن وہ جو بے اختیار بچانے کے لئے آپ کی طرف دوڑا ہے اس کو کہا عورت کا خیال کرو ، عورت کا خیال کرو اور حضرت ابوطلحہ نے خیال کیسے رکھا؟ احادیث میں یہ آتا ہے کہ آپ نے اپنے چہرے پر پردہ ڈالا اور حضرت صفیہ پہ چادر پھینکی اور جب ان کا جسم سنبھل گیا اور