اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 400
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۰۰ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء کئے گئے ہیں ورنہ یہ واقعات اُن کے ساتھ خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے اور ہماری تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ جماعت احمدیہ کی خواتین کی قربانیاں کوئی معمولی نہیں۔ایسی نہیں ہیں کہ انہیں سو یا دوسو یا چار سو صفحات پر بھی محفوظ کیا جا سکے، کئی سلسلے کتابوں کے لکھے جاسکتے ہیں اور ابھی تو ہم نے مختصر ان کے دل کے تاثرات لکھے ہیں۔کئی مہینے تک روزانہ جو ان مظلوموں پر گزرتی رہی اور جن دردناک حالات سے وہ گزریں اُن کا شمار کرنا، اُن کا احاطہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔پس لجنہ اماءاللہ جرمنی کو بھی چاہئے کہ یہاں بھی وہ ایسی خواتین جو مختلف سخت وقتوں سے گزر کر آئی ہیں ان کا تتبع کریں، ان کی فہرستیں تیار کریں اور ان کی آپ بیتی خود ان کی زبان سے لکھوائیں۔اگر زبان کمزور ہے تو اصلاح نہ کریں، جس زبان میں وہ لکھواتی ہیں اسی طرح لکھ دیں۔اگر پنجابی بولتی ہیں تو پنجابی میں لکھ دیں مگر جو حقیقت میں اس کی زبان کا لطف ہے جس پر سے گزری ہو وہ خواہ کیسی اچھی زبان ہو دوسرے کی زبان میں بات پیدا نہیں ہوسکتی۔جس کے دل پر گزرتی ہے اس کے ٹوٹے پھوٹے فقرے میں بھی زیادہ طاقت ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی اچھا قلم کا راس کی جگہ اس کے واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش کرے۔پس آپ سب کے پاس یہ جو امانتیں ہیں ان کی حفاظت کریں اور آئندہ اپنی نسلوں کو بھی یہ باتیں سناتی رہیں کیونکہ یہ احمدیت کے قیمتی سرمائے ہیں۔یہ سرمائے نہیں ، وہ سرمایہ کاری ہے جس کا پھل ہم آج کھا رہے ہیں اور کل بھی کھاتے رہیں گے۔ساری صدی اس سرمایہ کاری کا پھل کھاتی رہے گی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم آرام پسندی اور تعیش کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو چھٹے رہیں کہ قوموں کی زندگی ان کے ایثار پر وابستہ ہے۔شہیدوں کے خون ہی میں قوموں کی حیات کا راز مضمر ہے۔آب حیات کے قصے آپ نے سنے ہیں، ہر دوسرا قصہ جھوٹ ہے مگر شہید کا خون یقیناً آب حیات کا حکم رکھتا ہے۔یہی بات ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے۔بَلْ أَحْيَا وَلكِنْ لا تَشْعُرُونَ (البقره: ۱۵۵) شہیدوں کو مرا ہوا نہ کہو وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔پس یہ وہ آب حیات ہے جس کے جسم سے بہتا ہے اسے بھی زندہ کر جاتا ہے اور آنے والی نسلوں پر جن پر ان قربانیوں کے چھینٹے پڑتے ہیں اُن کو بھی زندہ کر جاتا ہے۔پس اس آب حیات کی قدر سمجھیں اور ان قربانیوں کے ساتھ چھٹی رہیں۔اپنی آئندہ نسلوں کو