اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 383
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۸۳ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء میں آپ کو صرف اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کے لئے راہیں معین کر دی گئی ہیں۔ہر وقت میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مردوں اور بچوں اور عورتوں کو مزید ابتلاؤں سے بچائے اور بغیر ابتلاؤں ہی کے اجر کا ایک لامتناہی سلسلہ عطا فرمادے۔مگر انسان کی سوچ ناقص ہوتی ہے۔بعض لوگ جب مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے شہادت کی دعا کریں تو میں جانتا ہوں کہ شہادت کا رتبہ کیا ہے۔مگر میں ان کو لکھا کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت اور جماعت کو اس وقت غازیوں کی ضرورت ہے۔مگر ایک انسانی سوچ ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب جماعت کو شہادتوں کی ضرورت ہے اور کب جماعت کو غازیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔پس جب بھی اس کی تقدیر ایک فیصلہ فرمائے گی وہ فیصلہ بہر حال جاری ہو گا اس لئے میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ کی ان پاک خواتین نے جو آپ سے پہلے ان مصیبتوں میں سے پہلے گزری ہیں انہوں نے آپ کے لئے راہ عمل معین کر دی ہے۔وہ زمین پر چلنے والی ایسی تھیں کہ آسمان پر کہکشاں کی طرح ان کے قدموں کے نشانات ہمیشہ تاریخ میں روشن رہیں گے۔اگر ایسے واقعات پھر رونما ہوں جیسا کہ آج پاکستان کا ملاں شدید لیش کھا کر غیظ و غضب کا شکار ہو کر دوبارہ ایسے حالات پاکستان پر وارد کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو میری نصیحت یہ ہے کہ دنیا چند روزہ ہے جو کچھ بھی ہوتا ہو، ہو جائے۔اپنے ایمان کو سلامت رکھتے ہوئے خدا کے حضور حاضر ہوں اور یاد رکھیں کہ آپ جو شہید کا مرتبہ پانے والے ہیں آپ کبھی مر نہیں سکتے۔آسمان کا خدا گواہ ہے کہ آپ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اور آپ ہی کی زندگی سے آپ کے بعد پیچھے رہنے والی قومیں زندہ رہیں گی اور اسی کا فیض پاتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ یہ توفیق عطا فرما تار ہے۔اس ضمن میں میں آخری نصیحت یہ کرتا ہوں کہ آج جو تبلیغ کا دور ہے اس میں جیسا کہ حیرت انگیز طور پر احمدی خواتین قربانیاں پیش کر رہی ہیں اس راہ میں قدم آگے بڑھاتی رہیں کیونکہ وہ لوگ جو داعی الی اللہ ہوتے ہیں ان کی غیر معمولی حفاظت آسمان سے اترتی ہے، حفاظت کے سامان آسمان سے اترتے ہیں اور یہ وہ موقع ہے جس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ داعین الی اللہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت غیر معمولی طور پر حفاظت کے سامان کرتی ہے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں آئندہ بھی ہوتے رہیں گے لیکن بعض دفعہ دعوت الی اللہ کی راہ میں بھی شہادت واقع ہو جاتی ہے اس کے نتیجے میں دعوت الی اللہ سے نہیں رکنا۔ہم یعنی احمدیت آج ایک ایسے عظیم دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سارے پیمانے تبدیل