اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 368

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۶۸ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء فضل کے ساتھ جو بھی زندہ ہیں انشاء اللہ ان سب کے واقعات خودان کے قلم سے محفوظ کئے جائیں گے۔یہ داستان بہت ہی درد ناک ہے اس لئے دعا کریں اللہ مجھے حوصلہ عطا فرمائے کہ اپنے ضبط کو قائم رکھتے ہوئے میں آپ کے سامنے کچھ واقعات بیان کرسکوں۔جب میں سرسری نظر سے ان کو پڑھ رہا تھا تو دل کی کیفیت یہ تھی کہ: روکے ہوئے ہیں ضبط وتحمل کی قوتیں رگ رگ پھڑک رہی ہے دل ناصبور کی ان کا پڑھنا اتنا دو بھر تھا تو تصور کریں کہ وہ لوگ جو ان واقعات میں سے گزرے ہیں وہ خواتین جوان واقعات میں سے گزری ہیں ان کا کیا حال ہو ا ہوگا۔مختلف نوعیت کے واقعات ہیں میں ان میں سے چند آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔☆ عد عائشہ بی بی اہلیہ مہر دین صاحب آف گوجرانوالہ بیان کرتی ہیں کہ ۷۴ ء میں جب گوجرانوالہ میں حالات خراب ہوئے تو میرے بیٹے منیر احمد کا ایک غیر احمدی دوست آیا اور کہنے لگا کہ صبح بہت خطرہ ہے راتوں رات کہیں چلے جائیں۔میرے بیٹے نے کہا ہمیں کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے ہم یہیں رہیں گے۔میرے بیٹے بشیر نے مجھے اور میری بیٹی جمیلہ کو اپنے دوست کے گھر بھجوا دیا۔بیان کرتی ہیں کہ میں نے عام حالات میں اپنے بیٹوں کو آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا لیکن اس دن بیٹوں کو اس قدر خطر ناک حالات میں بے فکری سے چھوڑ کر چلی گئی۔اس بات سے بے خبر کہ نہ جانے بیٹوں کے ساتھ کیا ہوگا۔یہ اللہ ہی کا فضل تھا جو اس نے مجھے حوصلہ عطا فرمایا۔صبح جلوس نے حملہ کر دیا۔میرے بیٹے تمام دروازے مقفل کر کے چھت کے اوپر چلے گئے جہاں پہلے بھی پانچ آدمی موجود تھے۔ہجوم نے ان پر پتھراؤ کیا۔بچے چھت پر ادھر ادھر بھاگتے اپنے بچاؤ کی کوشش کرتے رہے لیکن کوئی بچنے کی صورت نہیں تھی۔بارش کی طرح پتھر ہر طرف سے برس رہے تھے ، جو قریب کے اونچے کو ٹھے تھے وہاں سے بھی پتھراؤ ہو رہا تھا۔وہ پچھلی گلی میں اترے تا کہ وہاں سے باہر نکل جائیں لیکن وہاں بھی ہجوم تھا۔انہوں نے نیچے اترتے ہی ان پر حملہ کر دیا اور ڈنڈوں اور پتھروں سے مار مار کر میرے دونوں بیٹوں کو شہید کر دیا اور انہیں اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیروں کے نیچے دبا دیا۔اس موقع پر میرے بیٹے منیر احمد اور بشیر احمد کے علاوہ سعید احمد ، منظور احمد محمود احمد اور احمد علی قریشی بھی وہیں شہید ہوئے۔سبھی کو ڈنڈوں اور اور پتھروں سے مار مار کر شہید کیا گیا اور اس طرح خدمت اسلام کے ایک نئے نمونے دنیا میں پیش