اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 359

حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۵۹ خطاب ۱ ار ستمبر ۱۹۹۳ء ہونے کی وجہ سے وہ تعویذ گنڈے کی بہت قائل تھیں اور دم درود کروا کر اس کو کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹکے کے بعض چیزوں کے اوپر پھونکیں مراد لیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس کی برکت سے کوئی چیز عطا ہو جائے گی تو کسی چیز پر انہوں نے وہ پھونکیں مروائیں اور ان کو کہا کہ اس کو ہاتھ لگاؤ گی۔یعنی گڑ دیا کہ اس پر ہاتھ لگاؤ گی تو تمہارے بچہ ہوگا تو انہوں نے کہ میں مشرکہ نہیں ہوں۔کہتی ہیں میں نے اس وقت لے تو لیا ان سے لیکن ہاتھ نہیں لگایا اور باہر جا کر بھینسوں کی کھرلی جس میں بھینسوں کو چارہ دیا جاتا ہے اس میں وہ گڑ پھینک دیا اور بعد میں ان کو بتادیا کہ دیکھیں میں نے اسکو کپڑے سے پکڑا تھا ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ میں مشرکہ نہیں ہوں۔بچہ لوں گی تو خدا سے لوں گی۔آپ کے پیروں فقیروں سے میں نے کچھ نہیں لینا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت رکھی۔دعا قبول فرمائی اور دو صحت مند بیٹے عطا فرمائے۔کہتی ہیں میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے شرک سے بھی بچایا اور میری دلی آرزو بھی پوری فرمائی۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بہت بزرگ صاحب کشف والہام صحابی تھے اس کثرت سے آپ کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور ایسے نشانات آپ کو دکھائے جاتے تھے کہ پرانے زمانے میں انبیاء کی تاریخ میں بھی ایسے واقعات کم دکھائی دیتے ہیں۔ان کو دیکھ کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آ جاتی ہے کہ علماء امتى كانبیاء بنی اسرائیل کہ تم میری اُمت کے علماء کو ایسے دیکھو گے کہ بظاہر وہ معمولی انسان ہوں گے لیکن فی الحقیقت میں ان کا مرتبہ انبیاء بنی اسرائیل جیسا ہوگا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلاموں میں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہوئے اور ان میں بھی مختلف شانوں والے انسان تھے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ایک بہت ہی بلندشان کے انسان تھے۔بہت ہی عاجز بہت ہی منسکر المزاج اور بکثرت دعائیں کرنے والے اور بکثرت دعاؤں کا فیض پانے والے تے ان کی نیکی کا اثر ان کے ماحول پر بھی تھ ان کی بیگم بھی خدا کے فضل سے بہت دُعا گو اور متوکل خاتون تھیں۔وہ بھتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ کوئی کہتا ہے کہ مولوی صاحب تو دیوئے ہیں اگر بجھ بھی گئے تو اللہ کافی ہے۔یہ خدا کی عجیب شان تھی کہ حضرت مولوی صاحب کے اس مقام مرتبے کے باوجود ان کو ایک دیوا‘ بتایا ہے۔بہت سے دیوے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمائے تو فرمایا کہ ایک دیوا‘ بجھ گیا تو کیا ہے دوسرے دیوے بھی تو اور ہیں۔یہ روشنی تو بہر حال خدا کی عطا کردہ ہے جو جاری وساری رہے گی کوئی اس روشنی کو بجھا نہیں سکے گا۔کہتی ہیں میں اس کا مضمون سمجھے تو گئی لیکن دل میں بے چینی پیدا ہوئی اور