اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 357

حضرت خلیفتہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۵۷ خطاب اار ستمبر ۱۹۹۳ء دروازے سے واپسی دروازے پر اللہ کی طرف سے یہ پیغام دیکھیں کتنا پیار کا اظہار ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ سلوک فرماتا ہے اور ایسے سلوک فرماتا ہے کہ وہم و گمان کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔بعینہ حالات کے مطابق ایسا نشان ظاہر ہوتا ہے کہ جو دیکھتا ہے وہ اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ یہ اتفاق کی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیار کا اظہار ہے۔اب دیکھیں وہ کہتی ہیں جب میں وہاں پہنچی تو منی آرڈر وصول ہوا اور ایک پرانے عزیز کی طرف سے خط تھا ایک ایسی عزیز تھی وہ جس کے ساتھ جب میں ہوٹل میں ہوا کرتی تھی تو میں نے بہت حسن سلوک کیا تھا۔اس نے لکھا کہ ہوٹل کے زمانے میں آپ نے مجھ سے بہت حسن سلوک کیا ہوا ہے میں نے نئی سروس شروع کی ہے اور آج مجھے اس کی تنخواہ ملی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اس حسن سلوک کی یاد میں اس تحفے میں آپ کو بھی شامل کرلوں۔اب پھر دوبارہ دیکھیں کس طرح وقت کو خدا تعالیٰ نے ملایا ہے کنٹرول کیا ہے وہ پرانے زمانے کی حسن سلوک کی یاد کس طرح ان کے دل میں ایک دم تڑپی ہے اور تنخواہ ملنے کا واقعہ اور یہ ٹائمنگ دیکھیں کیسی پرفیکٹ (Perfect) ہے کہ ادھر خاتون ایک خاتون کی طرف جاتی ہیں اور اس تردد سے لوٹ آتی ہیں کہ خدا کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا اور ادھر وہ پرانا واقعہ ایک خدا کی نعمت بن کر کینیڈا سے چلا ہوا ہے جو عین وقت پر ان کو ملتا ہے۔پس یہ نشانات اس کثرت سے ہیں جماعت احمدیہ میں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ہم آخر پاگل تو نہیں کہ دُنیا کو چھوڑ کر دین کے لئے سب تن من دھن قربان کئے بیٹھے ہیں اور دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے۔زندہ خدا کو دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہے اس کو چھوڑ کر پھر اور کہاں جاسکتے ہیں۔ہمارا تو کل ، ہمارا خلاص ہمارے دین کی محبت ہمارے دل کی مجبوریاں ہیں اور غیر ان کو سمجھ نہیں سکتے۔طاہرہ رشیدالدین صاحبہ اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی وفات سے ایک دن قبل رویا میں دیکھا کہ بیگم صاحبہ کے کمرے میں بہت روشنی ہے۔بی بی فوزیہ بھی جو میری پھوپھی زاد ہمشیرہ ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں خدا کے فضل سے انہوں نے بھی خدمت دین میں بہت محنت کی ہے اور بیعتوں کے سلسلے میں انہوں نے اور ان کی لجنہ نے بہت اعلیٰ نمونے کا کام کیا تھا وہ کہتی ہیں بی بی فوزیہ اس کمرے میں ہیں۔نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ مجھے کہتی ہیں کہ میں نے نہانا ہے۔میں بی بی فوزیہ سے کہتی ہوں کہ کیا خیال ہے انہیں نہلا نا دیں۔بی بی فوزیہ کہتی ہیں کہ انہیں ہم کل مل کر نہلائیں گے میں صبح اُٹھ کر ان کے گھر جانے ہی والی تھی کہ ان کی ملازمہ آگئی اور خبر دی کہ بیگم