اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 352

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۵۲ خطاب اار ستمبر ۱۹۹۳ء ٹوپی سے خالی ہاتھ اپنی جانیں بچا کر وہاں آگئے تھے۔اس تجربے میں جو الہا ما آپ کو بتایا گیا کفار مکہ کا نظارہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ احمدیت کی مخالفت کرنے والے وہی رنگ اختیار کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں مکے میں کیا گیا اور جس طرح خدا تعالیٰ نے غیر معمولی حفاظت سے بڑے شر سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کو بچایا۔اسی طرح جماعت احمدیہ کی بھی حفاظت فرمائے گا اور یہ واقعہ بعینہ اسی طرح ان کے حق میں پورا ہوا۔بعض دفعہ یورپ کے احمدی پاکستان سے آئے ہوئے غریب اور ایسے طبقے سے تعلق رکھنے والے احمدیوں سے پریشان ہوتے ہیں جن کی عادتیں ان سے بالکل مختلف ہیں جن کا علم بھی کم ہے جن کی تہذیب ترقی یافتہ نہیں ہے اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ ان میں تو بہت سی برائیاں بھی ہیں پھر ان کو کیوں خدا نے چن لیا ہے۔وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ غریب اور کمزور احمدی خدا کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دے کر آئے ہیں اور ہر قربانی پر ثابت قدم رہے ہیں اور اتنی عظیم مثال وفا کے ساتھ انتہائی تکلیفوں میں صبر کے ساتھ دن گزار کے اپنے ایمان پر رہنے کی انہوں نے قائم کی ہے کہ ایسی مثال تاریخ عالم میں کم دکھائی دیتی ہے۔پس میں جانتا ہوں کہ ان میں کمزوریاں بھی ہیں ان میں غفلتیں بھی ہیں۔تہذیبی تقاضے بھی پورے نہیں کرتے لیکن ہیں ایسے خدا کے بندے جن کی وفا آزمائی جا چکی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں سے اس وجہ سے صرف نظر بھی فرماتا ہے۔خدا کرے کہ یہ کمزوریاں بھی دُور ہو جا ئیں اور انہی گودڑیوں میں وہ پھل پیدا ہوں جن پر خدا اپنے جلوے دکھائے اور خدا کے نور سے وہ پھل چمکتے رہیں اور تمام دنیا اس بات کی گواہ ہو جائے کہ ان میں کوئی بات تھی جس کی وجہ سے خدا نے ان سے پیار کیا ہے۔یہ بے وجہ خدا کے انعامات نہیں تھے جو ان پر نازل ہور ہے ہیں۔راجہ محمد عنایت صاحب کی اہلیہ محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے خسر غیر احمدی تھے اور مجھ پر بہت ہی ظلم کیا کرتے تھے۔ہر وقت جھگڑا، ہر وقت گالیاں ، جامعہ اشرفیہ کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے۔یعنی گالیاں والیاں دے کر تو میں بہت روئی۔روتے روتے میں نے بلند آواز سے عرض کیا کہ یا اللہ ! میں تو یہاں تڑپ رہی ہوں۔میری ماں کو ربوہ معلوم ہو جائے کہ اس کی بیٹی کی کیا حالت ہے کہتے ہیں اگلے دن صبح صبح ان کے بھائی وہاں پہنچ گئے اور آ کے پوچھا کہ تمہیں کوئی تکلیف ہے کہتی ہیں میں سن کر رو پڑی لیکن ساس نے پردہ ڈالنے کی خاطر کہا کہ بھائی کو دیکھ کر محبت سے روئی ہے۔تکلیف وکلیف کوئی نہیں۔اس پر بھائی نے کہا کہ میں تو اس لئے آیا ہوں کہ کل والدہ کو بالکل ٹھیک