اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 288
حضرت خلیفہ صیح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۲۸۸ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء کا مال شامل ہے میرے لئے حرام ہے۔میں تو آج کھانا نہیں پکاؤں گی پہلے چندہ دے کر آؤ، مجھے رسید دکھاؤ تب میں کھانا پکاؤں گی۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں اسی طرح کیا کرتا تھا اور بیوی کی قربانی تھی جس نے مجھے اچھا احمدی بننے کے راز سکھائے۔اور اللہ کے فضل سے اب میں صف اول کا احمدی بن چکا ہوں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جب تقسیم ملک ہوئی اور ہم ہجرت کر کے پاکستان آئے تو جالندھر کی ایک احمدی عورت مجھے ملنے کے لئے آئی۔رتن باغ میں ہم مقیم تھے وہیں آکر ملی اور ا پناز یور نکال کر کہنے لگی کہ حضور میرا یہ زیور چندے میں دے دیں۔اس زمانے میں بہت ضرورت ہوا کرتی تھی۔بہت زیادہ غربت تھی۔مجھے یاد ہے کہ پارٹیشن کے بعد رتن باغ میں جب ہم ٹھہرے ہوئے تھے تو سارے خاندان کا خرچ حضرت مصلح موعود پر تھا اور روٹی کا راشن تھا۔ایک روٹی سے زیادہ کسی کو نہیں ملتی تھی اور بعض بچے شور مچاتے تھے کہ ہم نہیں کھائیں گے ایک روٹی۔ہمیں دوسری روٹی چاہئے اور ابھی ہماری ایک عزیزہ نے ہمارے چا کی بیٹی ہیں انہوں نے مجھے لندن میں چند دن پہلے بتایا کہ پہلے آدھی روٹی مقرر ہوئی تھی اور ہم نے ہڑتال کر دی کہ ہم نے نہیں آدھی روٹی کھانی۔چا ابا کی بچیاں کھائیں بے شک ، ہم نہیں کھائیں گے۔یعنی حضرت مصلح موعود کے بچے کھاتے ہیں تو کھا ئیں ہم نہیں کھا سکتے تو پھر وہ راشن بڑھا کر ایک روٹی کر دیا گیا اور وہ بھی ہلکی روٹی ہوا کرتی تھی اس لئے پوری نہیں آیا کرتی تھی ، تو یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ اس قد ر غربت کا حال تھالٹ لٹا کر پہنچے تھے۔نئے انتظام بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔تو حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں وہ عورت آئی اور مجھے کہا میرا سارا زیور لے لیں۔میں نے اسے سمجھایا کہ دیکھو دن کون سے ہیں تمہیں بھی ضرورت ہے، تمہارے خاندان کو ضرورت ہوگی یہ رکھ لو اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ یہ زیور جب میں چلی تھی تو اس نیت سے لے کر چلی تھی کہ میں اسے خدمت دین میں پیش کروں گی۔باقی سب چیزوں نے سکھوں نے لوٹ لیں۔یہ بھی لوٹ سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی ہے میری اس نیت کی وجہ سے اس لئے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ میں اسے اپنے گھر رکھوں۔آپ سارا لیں۔میں دے کر جاؤں گی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں پھر مجبور ہو گیا اور اس کا زیور سارے کا سارا جماعت کے کام میں آیا۔اس زمانہ میں جماعت کو چونکہ ضرورت بہت تھی اس لئے یقیناً اس سے بہت بڑا فائدہ پہنچا ہوگا۔یہ قربانیاں صرف ایک خطے اور ایک ملک کی عورتوں کی طرف سے نہیں ہیں۔میں جانتا ہوں افریقہ میں بھی خدا کے فضل سے احمدی خواتین بہت قربانیاں کر رہی ہیں۔خود محنت کر کے کماتی ہیں اور