اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 287
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۸۷ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا۔‘الفضل جو جاری کیا گیا تھا۔حضرت مصلح موعود نے جاری فرمایا تھا۔اس وقت تو مصلح موعود نہیں تھے مگر آپ ہی اس کے جانی مبانی ہیں اس کا ذکر فرمارہے ہیں کہ جب اس کے لئے ضرورت پیش آئی تو حضرت امی جان، ہم تو امی جان کہتے تھے، ام ناصر نے اپنا تمام زیور فروخت کر کے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کر دیا اور بچپن کے وہ کڑے بھی دے دئے جو انہوں نے اپنی بیٹی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے لئے رکھے ہوئے تھے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ زیور لے کر فور الا ہور چلا گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے۔یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو ہمیشہ تازہ رکھے گا۔حضرت مصلح موعود کا یہ فقرہ بڑا دردناک ہے کہ ”میری بے بسی کی حالت لیکن اللہ کی شان دیکھیں کہ وہ بے بسی کی حالت کیسے تبدیل کی گئی ہے۔آج دنیا کے کونے کونے میں احمدی خواتین اتنی عظیم قربانیاں کر رہی ہیں کہ بہت بڑے بڑے کام ان کی قربانیوں سے چلائے جارہے ہیں اور پرانے زمانے کی باتیں سن کر آدمی حیران ہوتا ہے کہ کبھی جماعت کا اتنی بھی ضرورت پیش ہوا کرتی تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی حضرت سیدہ ام ناصر کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غالبا یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سیدہ ام ناصر کو جو جیب خرج حضرت خلیفہ اسح الثانی کی طرف سے ملتا تھا اسے وہ سب کا سب چندے میں دے دیا کرتی تھیں اور اولین موصیوں میں سے بھی تھیں۔بہت خاموش طبیعت تھیں۔دکھاوے سے بہت متنفر اور قربانیاں خاموشی کے ساتھ بغیر کسی کو بتائے پیش کیا کرتی تھیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے چوں کہ ذکر خیر کو زندہ رکھنا تھا اس لئے ایک دو جھلکیاں ان قربانیوں کی روح کی ہمارے لئے احمد ی لٹریچر میں محفوظ کر دی گئیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ مجھے تو میری بیوی نے پختہ احمدی بنایا ہے۔اب میں دوسری خواتین کی باتیں کرتا ہوں۔احمدی خواتین میں قربانیوں کا جذبہ کیسا تھا اور ابھی بھی ہے۔مصلح موعود نے ایک احمدی خاتون کے متعلق فرمایا کہ اس کے خاوند نے مجھے بتایا کہ میں تو کوئی اچھا احمدی نہیں تھا، ایسا ویسا ہی تھا۔میری بیوی نے مجھے اچھا احمدی بنایا ہے وہ کہتے ہیں اس طرح کہ میں جب تنخواہ لے کر گھر آتا تھا تو میری بیوی مجھ سے پہلے یہ پوچھا کرتی تھی، چندہ دے آئے ہو؟ تو میں کہ دیتا تھا کہ ابھی کل دے دوں گا جلدی کیا ہے۔تو وہ کہتی تھی کہ جب تک اس روپے میں خدا