اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 281
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۸۱ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء دکھاؤ اور دین کے ستارے بن کر چمکو اور دنیا کے لوگوں کے لئے راہنما بنو۔نصیرہ نزہت صاحبہ نے گجرات سے اپنے شوہر حضرت حافظ بشیر الدین صاحب عبیداللہ مرحوم کے نام خط میں لکھا: خوش رہیں، کامیابی اور کامرانی کی مرادیں دیکھیں۔قادیان کے جھنڈے کو بلند کرنے والوں میں سے ہوں اور دعا بھی کریں کہ خدا کا نام پھیلانے والوں میں ہمارا بھی نام ہو۔میں جب سے یہاں آئی ہوں۔کس طرح دن گزرتے ہیں اور کس طرح ستارے گنتے گنتے راتیں کٹتی ہوں گی لیکن زبان سے اگر کوئی لفظ نکلتا ہے تو یہی کہ اے قادیان کی بستی ! تجھ پر لاکھوں سلام اور اے قادیان میں رہنے والو جانباز و! تم پر لاکھوں درود۔سیالکوٹ کے ایک احمدی نوجوان غلام احمد صاحب ابن مستری غلام قادر صاحب جو قادیان کی بستی کی حفاظت کے لئے سیالکوٹ سے گئے تھے ان کی والدہ نے ان کے نام خط لکھا جو دراصل ان کی قربانی کی پیشگوئی بن گیا۔وہ لکھتی ہیں: بیٹا اگر دین حق اور احمدیت کی حفاظت کے لئے تمہیں لڑنا پڑے تو کبھی پیٹھ نہ دکھانا۔اس سعادت مند اور خوش قسمت نوجوان نے اپنی بزرگ والدہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ کی اس نصیحت پر اس طرح عمل کیا کہ قادیان میں احمدی عورتوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے دی مگر دشمن کے مقابلے میں پیٹھ نہ دکھائی۔مرنے سے پہلے اس نوجوان نے اپنے ایک دوست کو اپنے پاس بلایا اور اپنے آخری پیغام کے طور پر اس نے یہ لکھوایا: مجھے اسلام دین حق اور احمدیت کی صداقت پر پکا یقین ہے۔میں ایمان پر قائم جان دیتا ہوں۔میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں اسلام کے لئے جان دوں گا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جس مقصد کے لئے جان دینے کے لئے آیا تھا میں نے اس مقصد کے لئے جان دے دی۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا! دیکھنا پیٹھ نہ دکھانا۔میری ماں کو کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری نصیحت پوری کر دی اور پیٹھ نہیں دکھائی۔اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔کتنے شہید ہیں جن کی قربانی شہادت کے فیض میں ان کی مائیں، بہنیں، بیویاں شامل ہوا کرتی ہیں۔ان کے فیض سے جو ثواب عطا ہوتا ہے اس میں وہ شامل ہوتی ہیں لیکن انسان کا علم محدود ہے۔اس کی یادداشت محدود ہے وہ لکھ نہیں سکتا لیکن یاد رکھیں کہ آئندہ نسلوں کی عظمت اور ان کی سر بلندی میں آج کی ماؤں کا اتنا گہر ادخل ہے کہ اگر خدانخواستہ آج کی مائیں کو تا ہی دکھا دیں تو آئندہ آنے والی نسلیں سرنگوں ہو جائیں گی اور ہمیشہ کے لئے دین حق کو شرمندہ کرنے کا موجب بن جائیں