اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 266

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۶ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء وفات پا گئیں تھیں اُن کا ذکر کیا۔تو اس سے مجھے خیال آیا کہ یہ ایک لمبا مضمون ہے جو سلسلہ وار کچھ عرصہ تک جاری رہنا چاہئے۔بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کی خاموش قربانیاں گویا تاریخ میں دفن ہو گئیں لیکن وہ زندہ جاوید ہیں۔ان کی ایک ایک دن کی دردناک داستان اس قابل ہے کہ اسے ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔اور ہمیشہ آنے والی نسلوں کو اس کو سنایا جائے کیوں کہ کوئی قوم دنیا میں عظیم قربانیاں پیش نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی خواتین اپنے مردوں کے ساتھ نہ ہوں۔جب تک مردوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ہماری خواتین اپنے دل اور اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنے احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا سب کچھ اس خدمت میں جھونک دینے کے لئے تیار بیٹھی ہیں جس خدمت پر مامور دکھائی دیتے ہیں اور وہ دکھائی نہیں دیتیں۔تب تک مرد پورے حوصلے اور عزم اور صبر اور استقلال کے ساتھ وہ قربانیاں پیش نہیں کر سکتے۔یہ بھی بہت وسیع اور لمباذکر ہے۔گذشتہ ایک سوسال میں جماعت احمدیہ کی خواتین نے کس عظمت کے ساتھ ، کس ثبات قدم کے ساتھ کس شان کے ساتھ اور کس انکساری اور خاموشی کے ساتھ احیائے کلمتہ اللہ کے لئے قربانیاں پیش کی ہیں ان کا ذکر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ تو بہت لمبی داستان ہے اور آج میں نے بہت ہی محنت کے بعد کچھ چیزیں چن کر الگ کی ہیں تا کہ نمونے آپ کے سامنے رکھ سکوں اور آپ کی وساطت سے ساری دنیا کے مردوں کو بھی پتہ چلے کہ احمدی خواتین ہیں کیا؟ اور کتنی عظیم قربانی کرنے والی عورت آج اس زمانے میں پیدا ہوئی ہے؟ وہ یورپ کی خواتین جو مشرق کی خواتین کو جھک کر نیچے دیکھتی ہیں جو مسلمان خواتین کے متعلق سمجھتی ہیں کہ یہ گھوڑوں میں پلنے والی، از منہ گزشتہ سے تعلق رکھنے والی جانور قسم کی کچھ چیزیں ہیں ان کو کیا پتہ کہ زندگی کیا ہے۔وہ اگر احمدی خواتین کی قربانیوں کو دیکھیں اور لمبی خاموش قربانیوں کی داستان میں سے کچھ معلوم کر سکیں تو وہ یقیناً اپنی زندگیوں کو اسی طرح جھک کر، نیچے نظر کر کے دیکھیں گی اور وہ سمجھیں گی کہ ہمیں جینے کا سلیقہ نہیں آیا تھا۔ہم نے اپنی زندگیاں فضول لہو و لعب کی پیروی کرتے ہوئے ضائع کر دیں۔یہ بات ہر یورپین خاتون پر صادق نہیں آتی۔دنیا کے لحاظ سے وہ بہت محنت کر رہی ہیں لیکن محنت کا مقصد دنیا کی زندگی ہی ہے اور یہیں تک محنت اپنے مطلوب کو پا کر ختم ہو جاتی ہے مگر میں جن قربانیوں کا ذکر کرنے والا ہوں وہ ابدی قربانیاں ہیں۔ہمیشہ ہمیش کے لئے ہیں اور ان قربانیوں میں اور عیسائی دنیا کی ان قربانیوں میں ایک فرق ہے جو عیسائی خواتین نے عیسائیت کی خاطر پیش کی تھیں۔وہ فرق یہ ہے کہ عیسائی خواتین کا ایک بہت ہی معمولی حصہ تھا جو سو میں سے ایک بھی نہیں بلکہ