اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 21

حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۲۱ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء شمار ہوتی ہوں اور وہی پر و فیسر جس نے پہلے اعتراض کئے تھے اس نے اس کردار کی بارہا تعریف کی اور کہا کہ یہ زندہ رہنے والا کردار ہے جو یہ نمونہ دکھا رہے ہیں۔ان باتوں پر نظر کر کے جہاں دل حمد سے بھرتا ہے اللہ تعالیٰ کے احسانات کے آگے روح سجدے کرتی ہے وہاں یہ احساس بھی بڑی شدت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ عورت پر ذمہ داریاں ہی نہیں عورت کے کچھ حقوق بھی ہیں۔اگر عورت کو ذمہ داریاں یاد کرائی جائیں تو اس کے حقوق بھی تو ہمیں یا درکھنے پڑیں گے۔مردوں کو یہ بھی تو سمجھانا ہوگا کہ تم پر عورت کی کیا ذمہ داریاں ہیں اس کے بغیر معاشرے میں کبھی بھی توازن پیدا نہیں ہوسکتا، نیکیاں مستقل صورت اختیار نہیں کر سکتیں جب تک کہ معاشرے میں توازن نہ ہو اس لئے میں نے آج کے موضوع کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عائلی زندگی میں اسوۂ حسنہ اختیار کیا ہے۔عورتوں کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے اور مردوں کے لئے بھی۔سب سے حسین معاشرے کی جنت جو نازل ہوئی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نازل ہوئی۔آپ نے بہترین اُسوہ ہر آنے والی نسل کے لئے پیچھے چھوڑا۔خواتین مبارکہ سے آپ کا کیا سلوک تھا آپ کیسے گھر میں رہتے تھے، کس طرح ان کے حقوق کا خیال رکھتے تھے، کس طرح حقوق سے بڑھ کر اُن پر التفات فرمایا کرتے تھے، یہ وہ زندہ رہنے والے نمونے ہیں جو دُنیا کی نظر سے اوجھل ہو چکے ہیں اور یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ بہت سے احمدی گھروں کی نظر سے بھی اوجھل ہو چکے ہیں اس لئے جہاں عورت کو ہم اس کی ذمہ داریاں یاد کرواتے ہیں وہاں ضروری ہے اُس کے حقوق کو ادا کرنا بھی سیکھیں کیونکہ جب تک عورت کے حقوق ادا نہیں کئے جائیں گے مسلمان عورت مسلمان سوسائٹی میں فعال اور اہم کردار ادا نہیں کر سکے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی سے متعلق پہلے تو میں کچھ عمومی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور کیا تھا۔آپ ایک ایسے خاوند نہیں تھے جو گھر میں محض حکم ہی چلائیں اور یہ سمجھیں کہ بیویاں صرف خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔باوجود اس کے کہ آپ عورتوں کو مردوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرماتے تھے لیکن اپنا سلوک ازواج مطہرات سے ایسا تھا کہ اس کو دیکھ کر روح وجد میں آجاتی ہے۔کس قدر بے تکلفی کے ساتھ کس قدر انکساری کے ساتھ آپ گھر کے کاموں میں حصہ لیتے تھے کہ آج کی ایڈوانس سوسائٹیز میں جہاں مرد عورت کا کچھ نہ کچھ ہاتھ بٹانے لگے ہیں۔آج کل کے زمانے میں بھی ایسی مثالیں نظر نہیں آسکتیں۔