اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 17
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۱۷ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء اور ان کو ارتداد پر مجبور کرنے کے لئے پورا زرہ بکتر پہنا کر دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر کھڑا کر دیا جاتا تھا یہاں تو درجہ حرارت ۱۲۰ تک پہنچتا ہے عرب میں صحرا میں ۱۴۰ تک بھی پہنچ جاتا ہے اور ان کے حواس مختل ہو جایا کرتے تھے۔اس وقت ان سے پوچھا جاتا تھا۔تو روایتوں میں آتا ہے کہ ان کو بات سمجھ نہیں آتی تھی اس قدر شدت گرمی اور تکلیف سے وہ پاگل ہوئی ہوتی تھیں۔پھر ان کو ایذاء دینے والے اوپر کی طرف انگلی اُٹھاتے تھے اور تب وہ سمجھتیں تھیں کہ کہتے ہیں کہ خدائے واحد کا انکار کر دو۔تو بات کرنے کی تو طاقت نہیں تھی سر ہلا دیا کرتی تھیں کہ یہ انکار نہیں ہوگا۔ایسی بھی پردہ پوش مستورات اسلام میں گزری ہیں۔پھر حضرت اُم شعیب کا واقعہ آتا ہے ان کے ساتھ بھی دشمن یہی سلوک کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا جب انہیں تکلیف دی جا رہی تھی اور حالت یہ تھی کہ اس عورت کا بیٹا بھی یہ نظارہ کر رہا تھا اور اس کا خاوند بھی نظارہ کر رہا تھا اور کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اے عمار صبر کرو ، اے ام عمار صبر کرو اور اے ام عمار کے خاوند تم بھی صبر کرو کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔تو یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ابھی تو اسلام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں آپ نے دینی ہیں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ اسلام کی رفتار اسلام کے قافلے کی رفتار یعنی جو احمد بیت کا قافلہ ہے تیز سے تیز تر ہونے والا ہے اور تمام دنیا میں کاموں کے بے شمار بوجھ آپ پر آنے والے ہیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرانے کے بعد آپ کو یہ توفیق کیسے ہوگی کہ عظیم خدمت کے کام کر سکیں۔پس دعا کریں اور استغفار سے کام لیں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اسلام کی خاطر ہم ہر قربانی کے لئے پیش پیش ہوں یہ میدان بظاہر ہم ہار گئے ہیں اس میدان کو ہم نے لاز مافتح کرنا ہے۔وہ بچی جس نے کہا تھا کہ یہ بات نہیں چلے گی میں اس کو بتادیتا ہوں کہ یہ بات چلے گی یہ خدا کی بات ہے لازماً چلے گی تم ساتھ نہیں چلو گی تو الگ ہو جاؤ اسلام کے قافلے میں ایسے لوگوں کو شامل ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔مگر اسلام کا قافلہ بھی چلے گا اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی بات بھی لازما چلے گی اور ہمیشہ چلتی رہے گی خواہ ہمیں خون کا آخری قطرہ اس راہ میں بہانا پڑے۔