اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 205
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۰۵ خطاب ۲۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء اسی شکل میں ایک فرضی جنت کو ان کے سامنے رکھتے ہیں جو دور سے جنت ہی دکھائی دیتی ہے اور ہر انسان اس کی طرف دوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن عملاً وہ جنت نہیں ہے وہ سمندر کے پانی کی طرح کی ایک جنت ہے جو پیاس بجھانے کی بجائے اسے بھڑ کاتی چلی جاتی ہے۔حقیقی جنت گھر کی تعمیر میں ہے حقیقی جنت رحمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے اور اسی لئے قرآن کریم نے اس مضمون پر اس آیت میں روشنی ڈالی جو میں نے آپ کے سامنے رکھا اور آنحضرت ﷺ نے کمال فراست اور کمال عارفانہ نگاہ ڈالتے ہوئے اس آیت کو نکاح کے موقع کے لئے منتخب فرما دیا۔الله یه فراست کے نتیجے میں بھی تھا آپ کے عرفان لیکن میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ گومیرے علم میں ایسی کوئی حدیث نہیں آئی کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا خدا کی واضح وحی کے نتیجہ میں کیا مگر چونکہ آپ کا دستور یہ تھا کہ وحی کے سوا کوئی قدم نہیں اُٹھاتے تھے اس لئے مجھے کامل ایمان اور یقین ہے کہ فراست کے علاوہ اس کا وحی سے بھی تعلق تھا ضمناً آپ یہ کہ سکتی ہیں کہ اگر فراست سے تعلق تھا تو پھر وحی سے کیسے ہوا اور اگر وحی سے تھا تو پھر فراست سے کیسے ہوا اس سوال کا جواب قرآن کریم نے خود دے دیا ہے۔قرآن کریم آنحضرت میلہ کے نور کی مثال یا خدا کے نور کی مثال آپ کی شکل میں یوں پیش کرتا ہے کہ گویا آپ ایسا ایک شفاف تیل تھے جو از خود بھڑک اٹھنے پر تیار بیٹھا تھا اس کے اندر ایسی پاکیزہ صفات تھیں کہ اگر خدا کی وحی نازل نہ بھی ہوتی تو اس نے دنیا کے لئے روشنی ہی کے سامان کرنے تھے۔اس پر خدا کی وحی کا نور نازل ہوا اور محمد مصطفی ﷺ نور علی نور بن گئے پس وحی کا فراست سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مختلف انبیاء کی وحی کے مرتبے میں فرق ہے اور اس کی صفائی اور روشنی میں فرق ہے ورنہ خدا تو وہی ہے جس نے ہر نبی کی طرف وحی بھیجی پس آنحضرت ﷺ کو جو روشن تعلیمات نصیب ہوئیں ان تعلیمات میں یقیناً آپ کی خداداد فراست کا دخل تھا جس پر وحی نے نازل ہو کر اسے نور علی نور بنا دیا۔پس اس آیت کا انتخاب بیاہ شادی کے موقع پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور گھروں کی تعمیر میں یہ آیت ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یاد کراتا ہے تم ایک جان سے پیدا ہوئے تھے اگر چہ تعداد میں بڑھ رہے ہو اور پھیلتے چلے جارہے ہو لیکن ہمیشہ ایک جان کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے چلے جانا اور یہ بھی نصیب ہو گا اگر گھر کے تعلقات کو مضبوط کرو گے اور رحمی رشتوں کو استوار کرو گے اس میں بہت بڑا گہرا حکمت کا راز یہ ہے کہ قومی تعمیر اور قومی بجہتی پیدا کرنا ناممکن ہے جب تک گھروں کی تعمیر نہ ہو۔اور گھروں میں