اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 204

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۰۴ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء میں جب افریقہ کے دورے پر گیا تو وہاں بعض جگہوں پر مجھ سے بعض افریقن خواتین نے بعض پاکستانی خواتین کی شکایت کی کہ ان کا یہ طرز زندگی ہے اور وہ ہم پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ اسلامی طرز زندگی ہے اور ہم اس کی نمائندہ اور علمبردار ہیں۔آپ بتائیں کہ کیا یہ اسلامی طرز زندگی ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا احمدیت پاکستانیت دنیا پر ٹھونسنے کے لئے اور نافذ کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی۔بعض جگہ غلط فہمیاں تھیں اور بعض جگہ ان کی شکایت میں حقیقت تھی میں نے کھول کر ان کے سامنے جب بات بیان کی تو بڑی اچھی طرح سمجھ گئیں اور میں نے ان کے اوپر یہ بات خوب روشن کر دی کہ احمدیت اور پاکستانیت ایک چیز کے دو نام نہیں ہیں۔احمدیت اور ہے احمدیت اسلام ہے اور احمدیت کی ہرا دامبنی بر قرآن اور مبنی بر سنت ہونی چاہئے۔پس وہ ادا جو ینی بر قرآن ہے اور مبنی بر سنت ہے وہ احمد بیت ہے اور جس عورت میں وہ ادا پائی جاتی ہے اس کا حق ہے کہ وہ اسلام کی نمائندگی میں تمھیں ی تعلیم دے کہ اس عادت کو اپنا لو یا اس رہن سہن کی اس رسم کو اپنا لو اور اس کے علاوہ جو باقی باتیں ہیں وہ اس کو کوئی حق نہیں کہ آپ تک پہنچائیں اور یہ دعوی کرے۔گویا وہ اسلام کی نمائندہ بن کر آپ کو یہ سلیقے سکھانے کے لئے آئی ہے۔مغربی دنیا کی خرابیوں میں سے بہت بڑی خرابی وہی انفرادیت ہے۔خُود غرضی پیدا ہو چکی ہے معاشرے میں اور خود غرضی کو مزید تقویت دینے کے لئے دنیا کی لذتیں اور جدید آلات جو یہ لذتیں پیدا کرنے میں محمد بنے ہوئے ہیں یہ ایک بہت ہی بھیا نک کر دار ادا کر رہے ہیں دن بدن معاشرہ اس لئے بکھر رہا ہے کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں جدید تر قیات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے لذت یابی کے ذرائع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کروں اور اس راہ میں کوئی رشتہ حائل نہیں ہوتا کوئی تعلق حائل نہیں ہوتا۔بیٹا جو کماتا ہے وہ اپنے تک محدود رکھتا ہے۔شاذ ہی وہ اس سے اپنی غریب بہن کو حصہ دے گا یا غریب ماں کو حصہ دے گا یا غریب بھائی پر خرچ کرے گا پس اس پہلو سے یہ معاشرہ انفرادیت کا معاشرہ بنتا چلا جاتا ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی ضرورتیں پوری نہیں ہور ہیں۔ضرورتیں پوری نہ ہونے کا مضمون غربت سے تعلق نہیں رکھتا یہ قناعت سے تعلق رکھتا ہے یعنی اکثر صورتوں میں قناعت سے تعلق رکھتا ہے۔مغربی معاشرہ جتنا امیر ہوتا چلا جارہا ہے اتنا ہی زیادہ وہ ان کی طلب بھڑک رہی ہے اور ھل مِنُ مذید (ق: ۳۱) کی آواز اٹھ رہی ہے۔جو کچھ بھی لذت یابی کے سامان ان کو مہیا ہوتے چلے جارہے ہیں ان کی عادت پڑ جاتی ہے وہ بنیادی حق بن جاتا ہے اس سے آگے مزید طلب پیدا ہو جاتی ہے یہاں کی ٹیلی وژن یہاں کے ریڈیو یہاں کے دوسرے ذرائع ابلاغ