اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 191

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات 191 خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء کچھ عرصہ پہلے مجھے خط لکھا کہ میرا خاوند مجھے ہمیشہ تو تڑاں کر کے مخاطب کرتا ہے اور میں جب آئی تھی اس گھر میں تو میرے دل میں نرمی اور نفاست تھی رفتہ رفتہ محسوس کر رہی ہوں کہ اس بات کی کمی ہو رہی ہے اور مجھ میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے جو اس نے اٹھایا اور میں نے سوچا کہ میں اس کو آپ کے سامنے رکھوں، روزمرہ کی گفتگو کے سلیقے سے ہی گھر بنتے ہیں یا بگڑتے ہیں۔میں نے اس کو لکھا کہ لفظ تو کی بحث نہیں ہے۔خدا کو بھی تو آپ عظمت اور پیار سے تو کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔بحث ہے کس رنگ میں بات کی جاتی ہے۔اگر آپ بد تمیزی کے ساتھ آپ کہیں تو وہ آپ بھی تکلیف دے گا اور زہر گھول دے گا آپ کے رشتوں میں اور اگر محبت اور پیار کے ذریعے کے ساتھ آپ تو کہیں تو اس تو میں بڑی مٹھاس ہو گی اور وہ رشتے توڑنے کی بجائے رشتے باندھنے کا موجب بن جائے گی۔پس طرز گفتگو ہے جس میں آپ کو سلیقہ اختیار کرنا چاہئے۔اپنے بچوں پر بھی نظر رکھیں میں نے دیکھا ہے مجھے اس پر بڑی محنت کرنی پڑی ہے۔میری بچیاں ہیں خدا کے فضل سے عام تربیتی تقاضوں کے لحاظ سے بُری نہیں کہی جاسکتیں لیکن آپس میں جب باتیں کرتی ہیں جب بعض دفعہ تو ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتیں اور بچپن سے لے کر ان کے آج تک مجھے مسلسل محنت کرنی پڑی ہے۔بعض دفعہ میں اچانک کمرے میں جاؤں تو اونچی آواز میں بحث ہورہی ہوتی ہے اور میرے جاتے ہی آواز دھیمی ہو جاتی ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ بیبیو میرا سوال نہیں میں آج نہیں تو کل چلا جاؤں گا لیکن میں اس یقین کے ساتھ اس دنیا سے جانا چاہتا ہوں کہ میری عدم موجودگی میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ ملائمت کا سلوک کرو، نرمی اور پیار کا سلوک کرو۔تم نے دنیا کی تربیت کرنی ہے۔اگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھوٹی چھوٹی بحثوں میں تم نے گرمی اختیار کی ، جوش اختیار کئے، ایک دوسرے کے لئے تحقیر کے کلمے استعمال کئے تو دنیا کی تربیت کیسے کرو گی۔اپنی نسلوں کی تربیت کیسے کرو گی اس لئے میں جانتا ہوں کہ مشکل کام ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے اور بڑی وفا کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے، مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے۔اس پہلو سے آپ اپنے گھروں پر غور کریں اور نقشوں کو بدلیں کیونکہ جرمنی کی جماعت سے مجھے بہت کثرت سے ایسی شکایتیں ملتی ہیں کہ خاوند اپنی بیویوں سے بدتمیز ہیں اور بعض بیویاں اپنے خاوندوں سے بدتمیز ہیں بعض اپنے بچوں سے بدتمیزی سے بات کرتے ہیں اور پھر ان کے بچے بھی آگے سے جواب دیتے ہیں عجیب ہنگامہ پیدا ہوتا ہے۔تو وہ کوئی گھر ہے رہنے والا جہاں ہر وقت