اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 15
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۱۵ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء تکلیف پہنچتی ہے تو کیا خلیفہ وقت کو آپ ایمان کے اس ادنی معیار سے بھی کم سمجھتی ہیں؟ جب وہ ایسا فیصلہ کرتا ہے اس کا دل خون روتا ہے ، وہ دعائیں کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور گریہ وزاری کرتا ہے کہ اے خدا! بچا اور مجھے ایسا وقت نہ دیکھنا پڑے کہ میرے ہاتھ سے کوئی احمدی بچی یا احمدی بھائی ضائع ہو۔اس کے باوجود اگر کوئی ضائع ہوتا ہے تو پھر ایمانی غیرت کا تقاضا ہے اور میں آپ کو کھول کر بتا دیتا ہوں کہ پھر ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔جو زندگی انہوں نے اپنے لئے پسند کی ہے اس کا نقشہ میں نے آپ کے سامنے کھینچا ہے اس دنیا میں بھی ان کے لئے عذاب الیم کے سوا کچھ نہیں لکھا جائے گا۔میری کوئی بھی ذاتی حیثیت نہ سہی مگر میں اس منصب پر فائز ہوں جس کے لئے خدا ہمیشہ غیرت دکھاتا رہا ہے اور ہمیشہ غیرت دکھائے گا۔ایک دن بھی خلافت کا ایسا نہیں آئے گا کہ خدا اپنے خلیفہ کے لئے غیرت نہ دکھا رہا ہو اس لئے اپنے مقام کو سمجھیں میں ایک عاجز اور حقیر اور ذلیل انسان ہوں مگر منصب خلافت عاجز اور حقیر اور ذلیل نہیں ہے۔اگر آپ اپنے عہد بیعت میں صادق اور بچی ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ پر رحمتیں نازل فرمائیں گے اور آپ کی نسلوں کی خوشیاں آپ کو دکھاتے چلے جائیں گے۔کن لوگوں کی آپ اولا دیں ہیں، کس عظیم اسلام کی پاسبان ہیں ان کی قدروں کی پاسبان آپ بنائی گئی ہیں آپ نے پیٹھ پھیر لی تو کون ان قدروں کی حفاظت کرے گا۔ابتدائے اسلام میں ایسی ایسی خواتین تھیں جو پورا پردہ کرتی تھیں باوجود اس کے کہ جب سوسائٹی پاک ہو گئی ہے تو اجازت تھی کہ چہرے کا سامنے کا حصہ کھلا رکھا جائے ، جب گند تھا سوسائٹی میں تو پردے میں بہت زیادہ سختی تھی۔جیسا کہ آج کل پسماندہ ممالک میں گند ہے۔یعنی نظریں ایسی گندی ہو چکی ہیں ایسی عادت پڑ چکی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ نقاب پھاڑ کے بھی پہنچنے کی کوشش کریں گے۔یہاں وہی ابتدائے اسلام والا حصہ کام کرے گا جہاں سوسائٹیوں میں ایسی حالت نہیں ہے وہاں پر دے کا دوسرا حکم اطلاق پائے گا۔تو اس وقت بھی امہات المومنین میں سے ایسی عورتیں تھیں جو پردہ کرتے ہوئے جنگوں میں حصہ لیتی رہیں۔انہوں نے بڑی بڑی خدمات ادا کی ہیں۔جنگ احد میں حصہ لیا دوسری جنگوں میں حصہ لیا اور بڑی خدمت کے فریضے ادا فرمائے۔خولہ کا واقعہ آپ نے سنا ہوا ہے۔خالد بن ولید کو ایک دفعہ رومیوں کے ساتھ ایک معرکہ