اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 179

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات 129 خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء کر سکتا جب تک خدا کی خاطر کچھ خرچ نہ کرے خواہ اس کی جان ہو یا اس کے اموال ہوں۔تو اب یہ موازانہ دیکھیں کتنا اور زیادہ کھل کر سامنے آ گیا۔ایک جماعت تھی جو کہ رہی تھی کہ تمہیں مسلمان بننا ہے تو کچھ دینا ہوگا، کچھ قربانی کرنی ہوگی۔ایک آواز تھی جو کہہ رہی تھی کہ اگر تمہیں مسلمان بننا ہے تو کچھ لینا ہوگا، اپنی جانیں پیش نہیں کرنی ہوں گی بلکہ ہماری بنائی ہوئی تنظیموں کے ذریعے دوسروں کی جانیں لینی ہوں گی اور اموال بھی ہم تمہیں دیں گے وہ دنیا Materialistic ہو چکی ہے۔جو دنیا دار بن گئی ہے وہ جو جس پر آج کے زمانے کی مختلف تہذیبوں نے ایک ایسا گندا نقش چھوڑا ہے کہ ہر انسان خود غرض بنتا چلا جارہا ہے۔اُس دنیا کے لئے اب دیکھیں احمدی ہونا کتنا بڑا مشکل کام بن گیا۔جب جماعت احمد یہ میدان میں اکیلی تھی تو مقابل پر یہ آواز نہیں سنائی دیتی تھی کہ آؤ پیسے دینے کی بجائے ہم سے پیسے لو، جانیں پیش کرنے کی بجائے دوسروں کی جانیں لو، جہازوں میں بم رکھو، مختلف شہروں میں بم پھاڑ واور اسلام کے نام پر تباہی مچاؤ اور یہی اسلام ہے۔اسی کا نام خدمت اسلام ہے اس وقت یہ آواز میں نہیں تھی۔اس لئے سوائے احمدیت کے نہ جرمنی میں کوئی حقیقتاً اسلام سے آشنا تھا، نہ انگلستان میں آشنا تھا، نہ ہالینڈ میں آشنا تھا، سنا تو ہوا تھا انہوں نے لیکن اُن دشمنوں کے ذریعے جو ان کے اپنے ملکوں میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگیاں اسلام کی دشمنیوں میں خرچ کر دیں اسلام کی نمائندہ جماعت کے طور پر ایک ہی جماعت تھی اور ایک ہی جماعت تھی جو ساری دنیا میں سرگرم عمل تھی اور چونکہ مقابل پر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مخالفانہ طاقتیں ابھی نہیں ابھری تھیں اس لئے کنفیوژن (Confusion) کسی کے لئے نہیں تھا۔جس شخص نے مسلمان ہونا ہوتا وہ جماعت احمدیہ کی طرف رجوع کرتا تھا۔اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں اس لئے یہ وہ محرکات ہیں جن پر ہمارا اختیار نہیں ہے لیکن اس حد تک اختیار ضرور ہے کہ اگر آپ ان باتوں کو ذہن نشین رکھ کر دُعائیں کریں اور خدا سے مدد چاہیں اور خدا سے عرض کریں کہ اے خدا! تو جانتا ہے اگر دنیا بھول چکی ہے کہ ہم اس وقت دین کی خدمت کے لئے نکلے تھے جب ہم ابھی غریب اور نہتے اور کمزور تھے اور دنیا اس وقت بھی بڑی طاقتور تھی لیکن ہم نے اپنی غربت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور جو کچھ ہمیں میسر تھا ہم نے تیری راہ میں جھونک دیا ، ہم نے اپنے بچے قربان کئے ، اپنے خاوندوں کو تیری راہ میں زندگی بھر علیحدہ زندگی بسر کرنے کے لئے اجازت دے دی، ایسے وقتوں میں جب کہ افریقہ کے نام سے بھی دوسرے مسلمانوں کی طبیعتیں گھبراتی تھیں، ایسی احمدی خواتین تھیں جنہوں نے اپنے خاوندوں کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ تم جاؤ اور ہماری زندگیوں کی پرواہ