اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 14
حضرت خلیفہ مسیح الرائع کے مستورات سے خطابات ۱۴ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء نے اس قربانی کے حیرت انگیز مظاہرے کئے ہیں اسلام کی خاطر اور بیعت کا حق ادا کرنے کے لئے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد جب شروع میں کشمیر میں جہاد ہو رہا تھا تو پاکستانی فوج کو مجاہدین کی شدید ضرورت تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے دیہات میں پیغام بھجوانے شروع کئے جماعت میں کہ جو بھی فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے آج ایک خاص ضرورت ہے قوم اور ملک کو اس لئے آپ لوگ بھرتی ہوں۔ایک جگہ آپ کے کارندے گئے اور وہاں اعلان کیا بڑا احمدی گاؤں تھا کوئی کھڑا نہیں ہوا پھر اس نے کہا پھر کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ایک بیوہ عورت تھی بڑی عمر کی اس کا ایک ہی بچہ تھا وہ اپنے گھر سے جھانک رہی تھی یہ نظارہ۔اس قدر اس کو جوش آیا اس نے اپنے بیٹے کو نام لے کر کہا کہ او! میرے بیٹے تو کیوں جواب نہیں دیتا۔تیرے کان میں کیا خلیفہ وقت کی آواز نہیں پڑ رہی۔چنانچہ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اس نے کہا میں حاضر ہوں اور ایک قطرہ جس طرح بارش کا آتا ہے اور اس کے پیچھے موسلا دھار بارش برستی ہے سارے جتنے جوان تھے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم بھی آتے ہیں۔حضرت مصلح موعود اس واقعہ کو لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب یہ اطلاع مجھ تک پہنچی تو میں نے اپنے خدا کے حضور ایک دعا کی۔میں نے کہا اے میرے اللہ ! میری آواز پر اس بیوہ نے اپنا ایک ہی بیٹا پیش کر دیا ہے جو شادی کی عمر سے گزر چکی ہے پھر اولا د کی کوئی توقع نہیں ہے۔میں تیری عظمت اور جلال کی دہائی دیتا ہوں کہ اگر تو نے قربانی لینی ہے تو میرے بیٹے ذبح ہو جائیں اس عورت کا بیٹا بچایا جائے۔یہ ہیں وہ احمدی خواتین اور مستورات جو عہد بیعت کو نبھانے والی ہیں۔پس اگر کچھ بیٹیاں ان شدتوں کی وجہ سے اور ان سختیوں کی وجہ سے روٹھ کر پیٹھ دکھا کر باہر جاتی ہیں تو غم تو مجھے ان کا ضرور ہوگا لیکن دین کی غیرت مجھے بتاتی ہے کہ خدا کے دین کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیٹی اگر جائے گی تو خدا سینکڑوں ایسی بیٹیاں عطا فرمائے گا جو زیادہ وفادار ہوں گی، زیادہ حیادار ہوں گی، زیادہ دین کی خاطر قربانیاں کرنے والی ہوں گی، قانتات ہوں گی ،حافظات ہوں گی اور مرتے دم تک اپنے عہد بیعت کو نبھانے والیاں ہوں گی کیونکہ دین کو تو ان کی ضرورت نہیں۔ہاں میرے دل کے غم اپنی جگہ ہوں گے کیونکہ میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک بچی بھی ضائع ہو۔جب یہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ فلاں کو جماعت سے نکالوتو کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ خلیفہ وقت کو اس کی تکلیف نہیں پہنچتی ؟ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ تمام مومنین مل کر ایک بدن کی طرح ہیں ایک مومن کو دکھ پہنچتا ہے تو سارے مومنوں کو