اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 13

حضرت خلیفہ مسیح الرائع کے مستورات سے خطابات ۱۳ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء انسان کی ٹوپی گرتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان واقعات کو مختلف وقتوں میں مختلف شکلوں میں بیان فرمایا۔لیکن افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ لجنہ ان کو مرتب کر چکی ہے پھر بھی بہت سے ہیں جو پڑھتے ہی نہیں ہیں ، ان کو وقت ہی نہیں ملتا، سوسائٹی کی زندگیاں ہیں اس کے تقاضے ہیں ، ملاقاتیں ہیں ایک دوسرے کے گھر جانا ہے۔اتنی مصروفیات ، ان مصروفیات کے بعد کسی کو وقت کہاں مل سکتا ہے کہ دینی مطالعہ کرے۔حالانکہ ضرورتیں ایسی پیش آنے والی ہیں کہ آپ کو بھی آہستہ آہستہ بہت بڑی قربانیوں کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ نے مختلف وقتوں میں جو مختلف احکامات جاری کئے بظاہر ان کا براہ راست مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن احمدی مستورات نے ایسی ایسی قربانیاں دی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔مسلم لیگ کے زمانہ میں جب یہ خطرہ تھا کہ مسلم لیگ نہ جیتی تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک عام حکم جاری کیا کہ جس میں بھی طاقت ہے وہ ضرور ووٹ دینے کے لئے جائے۔اب وہ تو ایک واضح بات ہے کہ ووٹ دینا کوئی ایسا اسلامی فرض تو نہیں ہے کہ اس کو چھوڑنے کے لئے اسلامی حکم کو ٹالا جاتا ہے اور پھر جو مجبور ہو، بیمار ہو اس کو تو ویسے ہی اجازت ہے لیکن ایک عورت مچل گئی اس کے چند دن پہلے بچہ ہوا تھا۔اس کے ماں باپ رشتہ داروں نے سمجھایا کہ بی بی نہ جاؤ خطرہ ہے اس نے کہا خطرہ اپنی جگہ ہوگا میرے کانوں میں تو امام وقت کی آواز پہنچی ہوئی ہے کہ مسلم لیگ کو جتانا ہے اور ووٹ دینا ہے۔انہوں نے کہا اچھا پھر یہی علاج ہے تمہارا کہ ہم تالا لگا جاتے ہیں باہراور تمہیں اکیلا گھر میں چھوڑ جاتے ہیں۔تالا لگا کے سارے گھر والے چلے گئے۔وہ عورت اُٹھی اور اس نے ان کے جانے کے بعد واویلا شروع کیا کسی ایک ہمسائے کے کان میں آواز پڑی وہ آیا اور اس نے تالا توڑا۔اس نے کہا اور کوئی بات نہیں مجھے تھوڑی دیر کے لئے باہر جانا ہے تو باقی ٹھیک ہے۔وہ یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہوئی۔واپسی پر وہ قافلہ آرہا تھا ووٹ دے کر تو ایک جھاڑی میں سے انہوں نے خون بہتا دیکھا جا کے پتہ کیا تو وہی ان کے گھر کی بچی تھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ چل سکے۔چنانچہ رستے میں اتنی Bleeding شروع ہو گئی کہ جھاڑیوں میں وہ چھپ کر لیٹ گئی اور وہیں بے ہوش ہوگئی اسے اُٹھا کر واپس لائے۔اس طرح وہ لوگ بیعتیں کیا کرتے تھے، اس طرح تقاضے ادا کرتے تھے دین کے، وہ خالص تھے اپنے ایمان میں کوئی ان میں جھوٹ کی ملونی نہیں تھی۔ایسی ایسی مائیں تھیں جنہوں