اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 148
حضرت خلیفہ انسخ الرابع کے مستورات سے خطاب مسیح ۱۴۸ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء تمہارے ساتھ تمہارے وطن جا رہا ہے۔کیا تم پسند نہیں کرتے کہ یہ نظارہ ہو کہ بجائے اس کے کہ دنیا کے مال و دولت تمہارے ساتھ جارہے ہوں اور خدا کا رسول ﷺ تمہیں چھوڑ کر دوسری طرف جارہا ہو۔روایت کرنے والے بیان کرتے ہیں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے ذبح کئے جارہے ہیں اس قدر کہرام مچ گیا درد کا اور انصار بار بار کہتے تھے یا رسول اللہ ! خدا کے لئے ہمیں معاف کر دیں۔ہم نے ہرگز نہیں یہ سوچا، ایک بد بخت، ایک بدنصیب ہے جس نے ہم سب پر داغ لگا دیا تو ایسے ایسے بھی ظالم تھے جنہوں نے آنحضرت عملے پر اموال میں الزام لگائے بدظنی کی یہ آخری انتہا ہے۔حضرت مصلح موعود کا مجھے یاد ہے ایک دفعہ آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی اگر میں کسی امیر کی دعوت میں چلا جاؤں تو لوگ کہتے ہیں دیکھو یہ ان سے رعایت کرتا ہے۔اگر امیر کے حق میں فیصلہ ہو جائے مقدمے میں تو کہتے ہیں دیکھونا امیر آدمی تھا وہ تحفے دیتا ہوگا اس لئے اس کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔اور اگر غریب کے چلا جاؤں تو لوگ کہتے ہیں ایسا حریص ہے غریبوں کی دعوت بھی نہیں چھوڑتا۔ان کے کھانے کے لئے بھی ضرور پہنچ جاتا ہے، کیا کروں میں نہ جاؤں تو تم کہتے ہو متکبر اور غریبوں کے پاس نہیں جاتا۔اگر کسی امیر کے پاس نہ جاؤں تو کہتے ہیں ہم سے بدسلو کی ہورہی ہے ہمارا قصور کیا ہے اگر خدا نے ہمیں دولت دی ہے تو تمہیں کوئی حسن ظنی نہیں ہے اس پر جس کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔یہ سلسلہ آنحضرت ﷺ کے وقت سے جاری ہے اور آج بھی جاری ہے آج بھی لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔تو فرمایا تم اگر بدظنیاں کرو گے تو اِن بَعضَ الظَّنِ اثم ہلاک ہو جاؤ گے، بعض تمہاری بدظنیاں تمہیں گناہوں میں مبتلا کر دیں گی اور ایسے شدید گناہ تم سے سرزد ہوں گے جیسے اس بد بخت انصار میں سے ایک شخص سے سرزد ہوا تھا کہ قیامت تک قرآن کریم میں اس واقعہ کا ذکر اشارہ موجود ہے۔اور احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے اور جو شخص پڑھتا ہے وہ اس شخص پرلعنتیں ڈالتا ہے۔اس لئے ان باتوں کو چھوٹی نہ سمجھیں ان کے اندر آپ کی زندگی کے بہت گہرے راز ہیں۔روحانی زندگی سے اگر آپ کو محبت ہے تو اس کلام کی آپ کو اطاعت کرنی ہوگی پورے شرح صدر کے ساتھ اور پورے غور وفکر کے ساتھ محبت کے ساتھ۔کلام الہی کی نصیحتوں پر آپ کو عمل پیرا ہونا ہوگا لیکن افسوس ہے کہ یہ وہ نصیحتیں ہیں جو بار بار آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور بار بار آپ انکو بھلا دیتی ہیں یا بھلا دیتے ہیں۔مرد بھی اس میں برابر کے مخاطب ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقل دے اور توفیق عطا فرمائے کہ ان چیزوں سے بچیں۔