اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 142

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب مسیح مہ ۱۴۲ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء لئے فرمایا وَ لَا نِسَاءِ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ اور کوئی عورت کسی عورت سے تمسخر نہ کرے یعنی اس کو نیچا نہ دکھائے ، اس کے اوپر ایسے لطیفے نہ گسے جس سے اس کی تحقیر مراد ہو، یہ ہے تمسخر سے مراد عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ یا درکھو ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو جائیں۔اس میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں یہ نہیں فرمایا کہ وہ ضرور بہتر ہو جائیں گی عسی فرمایا ہے بعید نہیں عین ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو جائیں اس میں دو مضمون خاص طور پر ذہن نشین کرنے چاہئیں۔اول یہ کہ ایسی عورتیں جن کے اوپر زیادتی ہو وہ اگر خدا کی خاطر صبر کریں گی تو یقیناً خدا ان کو بہتر کر دے گا اس میں کوئی شک نہیں اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ لازم ہو جائیں گی۔اگر وہ آگے سے ویسی باتیں کریں گی یا زیادتیاں شروع کر دیں گی اور اسی طرح زبانیں دراز کریں گی ، تو اس آیت کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔اس لئے جو مظلوم ہے اگر وہ خدا کی وجہ سے خدا کی محبت اور اس کی رضا کی خاطر صبر سے کام لیتا ہے تو پھر بات آگے نہیں بڑھتی اور اللہ تعالیٰ نے یہ ضمانت دے دی ہے کہ ہم اسے بہتر کر دیں گے۔دوسرا یہ مضمون ہے کہ اگر وہ عورتیں نیک ہیں اور متقی ہیں تو ان کو ویسے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ایسی قومیں جو تقویٰ میں آگے بڑھ جائیں وہ پھر غالب آجایا کرتی ہیں۔ان کو خدا بہتر کر دیا کرتا ہے۔چنانچہ اسلام کی پہلی تاریخ میں آپ دیکھ لیجئے عرب قوم کو خدا نے کہاں سے اٹھایا اور کہاں تک پہنچایا۔یہ قوم بھی جیسا کہ قرآن کریم نے گواہی دی ہے، دوسری قوموں کے تمسخر کا نشانہ تھی۔عربوں کے متعلق لوگ کہا کرتے تھے یہ جہلاء ہیں ان پڑھ اجڑ جس طرح پنجابی لوگوں کو بھی کہتے ہیں پنجابی ڈھگا، مطلب یہ ہے کہ پنجابیوں کو زیادہ عقل نہیں ہوتی ، موٹے دماغ کے لوگ ہیں اور خاص طور پر یو پی والے پنجابیوں کا یہ مذاق اڑاتے ہیں، یہ بھی قومی مذاق ہے، بہر حال مذاق اڑا رہے تھے۔دیکھیں خدا نے پنجابیوں کو فضیلت دی نا یہاں پر اور انہی میں سے نبی بنادیا بالکل یہی مضمون ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے یہ وہ مضمون ہے جو اس مضمون سے ملتا جلتا ہے، فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الجمعه : ۳-۵)