اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 121
حضرت خلیلہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۱ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء اور بعض دفعہ تو صاف پہچانی جاتی ہیں کہ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ کی ہو گی۔تمام زوائد اور ایسے جن سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہوں وہ آپ کی روایات میں شاذ کے طور پر ملیں گے اور ہوسکتا ہے وہ بعد میں کسی روایت کرنے والے نے بیچ میں شامل کر دیئے ہوں۔ورنہ آپ کی روایتیں بالکل صاف شفاف روشن اور ہر قسم کے شک سے پاک ہیں۔تو عورت کو تو مرد کا بھی معلم بنایا گیا ہے اور دین میں معلم بنایا گیا اور آنحضرت اور تمام بنی نوع انسان کے درمیان میں واسطہ بنا دیا گیا اور قیامت تک کیلئے واسطہ بنا دیا گیا۔جہاں تک عام دنوں میں ، عام عبادتوں میں عورت کی شمولیت کا تعلق ہے میں بیان کر چکا ہوں کہ اس میں فرضیت نہیں ہے لیکن فقہاء یہ بیان کرتے ہیں کہ عید کی نما ز عورت کے لئے بھی فرض ہے اُس میں ضرور شامل ہونا ہے شاید اس لئے کہ عید میں بچے بھی تیار ہو کر ساتھ چلتے ہیں اور بلکہ بچوں کو اچھے کپڑے پہنے کی وجہ سے زیادہ شوق ہوتا ہے باہر نکلنے کا تو ماؤں پر فرض کر دیا کہ بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ساتھ لے کر نکلیں صرف ایک ہی نماز ہے جوان پر فرض ہے جو عید کی نماز ہے۔جہاں تک سوالات کا تعلق ہے حضرت عائشہ صدیقہ یہ فرماتی ہیں کہ انصار کی عورتیں دیکھو کتنی اچھی ہیں۔مجھے بہت ہی پیاری لگتی ہیں کیونکہ وہ مہاجر عورتوں کی طرح مسائل پوچھنے میں شرم محسوس نہیں کرتیں اور بے تکلف حضور ا کرم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایسے مسائل پوچھ لیتی ہیں جو مہاجر عورتیں پوچھتے شرمائیں اور اس سے وہ دنیا کی تعلیم کا سبب بن رہی ہیں۔چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ بعض انصار عورتیں بے تکلفی سے تمام اندرونی مسائل عورتوں کی ذات سے تعلق رکھنے والے پوچھا کرتی تھیں اور یہ انہی کی وجہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ان امور میں ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کا فیض پارہے ہیں۔جب عورتوں کی باتیں آنحضرت کے دربار میں جا پاتی تھیں اور بے تکلف جا پاتی تھیں تو شاید اسی کی برکت ہے کہ خدا کے دربار میں بھی ان کی باتیں بے تکلف جاپا جاتی تھیں اور قرآن کریم میں ایک عورت کی شکایت کا ذکر ہے جو اپنے خاوند کے خلاف شکایت کرتی ہے اور کسی مرد کسی انسان سے شکایت نہیں کرتی بلکہ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب سے شکایت کرتی۔قرآن کریم میں فرمایا: قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِنَّ إِلَى اللَّهِ کہ خدا تعالیٰ نے اس عورت کا قول سن لیا ہے جو تجھ سے خاوند کے مقابل پر اپنے حقوق کے