اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 102

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۰۲ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء انبیاء اور مقدس لوگوں نے یہ نمونے دکھائے ان میں سے ایک نے بھی تعداد پر کوئی پابندی نہیں لگائی اس لئے جہاں تک دیگر مذاہب کا تعلق ہے وہ جتنی چاہیں شادیاں کرتے پھریں ان کو کھلی اجازت ہے اور پھر وہ شرائط انصاف سامنے نہیں رکھیں جن کو قرآن کریم نے کھول کر بیان فرمایا اور وہ پاک نمونے نہیں دکھائے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے پاک نمونے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں۔ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بلاکسی رعایت کے بیان کرتے ہیں۔قرآن شریف کا منشاء زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثلاً اولا دصالحہ کے حاصل کرنے اور خویش واقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو اور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لو۔لیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل کا دکھانا بڑا گناہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص:۵۰) کیسی عظیم عبارت ہے اور فرمایا کہ یہ خدا کی اس تعلیم کے پیش نظر جو اسلامی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے خود مجھے دی ہے اس کے مطابق میں بغیر رعایت کے بغیر چھپائے تمہیں بتا تا ہوں۔اگر تم اسلامی تعلیم کی اجازت سے بظاہر استفادہ کرتے ہوئے اور اس رخصت کا بہانہ بنا کر ایک سے زائد شادیاں کرو گے اور عدل کی تعلیم کو پیش نظر نہیں رکھو گے تو یاد رکھو۔دل دکھانا زیادہ بڑا گناہ ہے تمہاری نا انصافی کے نتیجے میں جو دل دیکھیں گے اس کے عذاب میں تم مبتلا کئے جاؤ گے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مردوں کو ان کے حقوق سے مطلع فرماتے ہیں ایک لمبی عبارت ہے کہ اگر تم نے فیصلہ کیا ہے تم مجبور ہو تو جن شرائط کے ساتھ اسلام جس حد تک اجازت دیتا ہے تم ضرور کر ولیکن یہ حقوق ہیں اور یہ حقوق ہیں اور یہ حقوق ہیں ان کو پیش نظر رکھنا۔ان کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں۔یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوارہنا پسند کر لے (ملفوظات جلد چہارم ص: ۴۹ ) دوسری شادی کا خیال چھوڑ کے اگر وہ پورے حقوق ادا کرنے کا عزم کر کے کہ ہاں میں نے