اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 96

حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کےمستورات سے خطابات ۹۶ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً - اب دوبارہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ایک سے زائد شادیوں کے لئے تمہاری انصاف کرنے کی استعداد لازمی شرط ہے۔اگر تمہیں یہ و ہم بھی ہو کہ تم ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے نتیجے میں انصاف پر قائم نہیں رہ سکو گے تو یا درکھنا ایک ہی ہے تمہارے لئے ایک سے آگے نہیں بڑھنا۔آج کی دنیا میں جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے شاذ کے طور پر آپ کو کوئی ایسا مرد دکھائی دے گا مسلمانوں میں سے جو ایک سے زیادہ شادیاں کر کے دونوں کے درمیان انصاف کرتا ہو اس لئے اسلام کے نام پر جو اکثر شادیاں آپ کو دکھائی دے رہی ہیں وہ اسلام کے خلاف ایک باغیانہ رویۃ ہے۔میرے علم میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے شادیاں کیں اور ایک کو معلقہ کی طرح چھوڑ دیا اور پھر اس کے گھر جھانک کے بھی نہیں دیکھا۔اخراجات تک بھی نہ دیئے اس کو اور جس طرح بھی اس بیچاری سے بن پڑی اس نے گزارا کرنے کی کوشش کی اور دوسری بیوی کی طرف کلیتہ جھک گئے اور قرآن فرماتا ہے۔اَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً تم ایک سے زیادہ کے لائق ہی نہیں ہوا گر تم انصاف نہیں کر سکتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو نمونہ دکھایا ہے انصاف کا اس کی کچھ تفصیل ایک گذشتہ تقریر میں میں نے خواتین کے سامنے جو تقریر کی تھی اس میں بیان کی تھی۔وہ معیارا گر آپ سامنے رکھ لیں تو بڑے حوصلے کا مرد ہوگا جو دوسری شادی کرے گا کیونکہ ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک انسان اس اعلیٰ تقویٰ اور انصاف کے معیار پر قائم رہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ظاہر ہوا ہے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت ہے اور بعض مخصوص حالات میں اجازت ہے۔یہ جو آیت ہے۔اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان دنوں میں یہ آیت نازل ہوئی جبکہ غیروں کے ساتھ جہاد ہو رہا تھا قتال کا جہاد اور جب بھی تو میں آپس میں لڑتی ہیں تو مردوں کی تعداد گھٹنی شروع ہو جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اس پس منظر میں یتامیٰ بھی ابھرتے ہیں۔بڑی کثرت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور یتامی کی دیکھ بھال کے لئے بھی ضرورتیں پیش آتی ہیں۔اس پس منظر کو اگر آپ سامنے رکھیں تو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہ دینا ظلم ہوتا بجائے اس کے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دینا ظلم قرار دیا جائے اور آج بھی جب بھی ایسے حالات پیش آتے ہیں ایک سے زیادہ شادیوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے خواہ وہ اسے مانیں یا نہ ما نہیں۔یورپ میں بھی دو جنگوں میں ایسے واقعات پیش آئے جب کہ کثرت کے ساتھ عورتوں کی تعداد