اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 637
حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۳۷ خطاب کیم جولائی ۲۰۰۰ء Addiction میں ملوث ہیں حالانکہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے کھڑا کیا ہے کہ نہ صرف انڈونیشیا سے یہ بلا دور کریں بلکہ ایسا پاک نمونہ دکھائیں کہ سب دنیا سے یہ Drug Addiction کی وبا دور کر دی جائے۔اس سلسلے میں ایک بہت ہی عمدہ اقتباس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔آپ سوچیں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج کے زمانے کی Drug Addiction کی کتنی فکر تھی آپ فرماتے ہیں: ”اے عقلمند وا یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ۔تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو اور ہر ایک نشے کی چیز کو ترک کرو۔انسان کو تباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون ، گانجہ، چرس، بھنگ ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشے کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۹اص : ۷۰ ) یہ ہزار ہا کی بات تو اس زمانے کی تھی اب تو بلا شبہ نشے کی عادت کے نتیجے میں جو مختلف دنیا میں پھیلی ہوئی نشے کی مختلف صورتیں ہیں ان کے استعمال سے بلاشبہ لکھوکھا انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور اپنی خیالی دنیا میں بہت اونچے اڑتے رہتے ہیں حالانکہ وہ زمین پر چلنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔تو بہت بڑی بلا ہے جس نے دنیا کو گھیر رکھا ہے اور مغرب اور مشرق دونوں میں یکساں عمل کر رہی ہے۔ایک زمانہ تھا جبکہ چین کو غلام رکھنے کے لئے مغرب نے چین میں بعض نشہ آور چیزوں کے استعمال کو رواج دیا اور اب چین سے نشہ آور چیزیں بیرونی دنیا کو مغربی دنیا کو Export ہوتی ہیں اور یہ اچھا انتقام لے رہا ہے چین ان سے۔بہر حال مختصراً آپ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے نشہ آور Drugs کے پاؤں پر کلہاڑی چلا دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پر ہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمر میں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔حد سے زیادہ بدخلقی اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے۔حد سے زیادہ خدا اور اس کے بندوں کی ہمدردی