اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 60

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۰ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء عورتوں کا ، تو اپنی تخلیق کے مقصد کو وہ بھلا دیتے ہیں۔شادی کے بعد مودت اور رحمت کا مضمون ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے۔لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا کا مضمون ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے۔اور ایسا ماحول قائم کرنا چاہئے کہ مرد عورت کیلئے محبت اور رحمت کا سر چشمہ ثابت ہو اور عورت مرد کیلئے محبت اور رحمت کا سرچشمہ ثابت ہو۔جہاں تک نظروں کے بدکنے کا تعلق ہے ، بے راہ ہونے کا تعلق ہے، جہاں تک سکینت تلاش، دوسری جگہ کرنے کا تعلق ہے، اسلام جو پابندی لگاتا ہے وہ عائلی زندگی کی تقویت کی خاطر لگاتا ہے۔وہ اسلئے لگاتا ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات میں ہمیشہ دائم طور پر محبت کی حفاظت کی جائے۔اگر نظر کو بد کنے اور بے راہ روی کی اجازت دے دی جائے تو لازماً گھر کی محبت کی قربانی کے نتیجہ میں ایسا کیا جاسکتا ہے اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔جتنی نظریں آزاد ہوں گی اتنی ہی زیادہ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق سے آزادی کے نتیجے میں آزاد ہوں گی اس لئے جب اس کو پابندی کہا جاتا ہے تو بالکل غلط بات ہے۔اصل میں یہ حفاظت کا مضمون ہے اور بنیاد چونکہ اسلام نے عائلی معاشرہ پر رکھی ہے اس لئے عائلی اقدار کی حفاظت کیلئے یہ تعلیم دی جاتی ہے۔اور قرآن کریم یہ حقیقت نظر انداز نہیں فرما تا کہ انسانی فطرت کے تقاضے ایسے ہیں جو بالآخر تہذیبوں کو آزادی کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔بالآخر مذا ہب سے بے راہ روی پیدا کرنے کے لئے بھی انسان کے اندر کچھ ایسے تقاضے ہیں جو رفتہ رفتہ قدم ہٹاتے ہٹاتے اصل راہ سے دور لے جاتے ہیں۔تو فرمایا اس سلسلہ میں تمہیں ہم دعا سکھلاتے ہیں اگر تم دعا سے کام لو گے تو ان اقدار کی حفاظت کر سکو گے۔اگر محض اپنی طاقت پر انحصار کی کوشش کی تو تم ہر گز ان اقدار کی حفاظت نہیں کر سکو گے۔چنانچہ مؤمنوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: ۷۵) کہ وہ لوگ یعنی رحمن خدا کے بندے، وہ یہ دُعا کرتے رہتے ہیں کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ کہ اے خدا ! ہمیں اپنے جوڑوں سے ہی ، ایک دوسرے سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے تا کہ ہمارے دلوں کو ایسی تسکین نصیب ہو کہ ہم دوسری جگہ اس تسکین کے متمنی بن