اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 631
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۳۱ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں ایسا ہر گز نہیں چاہئے۔بلکہ اجماع میں چاہئے قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے۔جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو سیکھ لیا جائے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جائے۔ذرا ذرا سی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئے جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔“ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس قسم کی باتوں میں ذرا بھر بھی دل شکنی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ اگر کوئی برتن ٹوٹ گیا کوئی قیمتی چیز ضائع ہوگئی تو بڑی ہمدردی کا سلوک فرمایا کرتے تھے اور وہ شخص گھبرایا ہوا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو تسلی دیتے تھے کہ دیکھو کوئی بات نہیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک بہت قیمتی مسودہ آپ کی تحریر کا جس پر بے حد محنت کی ہوئی تھی آپ کے ایک بچے نے جلا دیا اپنی معصومیت کے کھیل میں اس کو آگ لگادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی دلداری شروع کر دی کہ گھبراؤ نہیں یہ للہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ میں اس سے بھی اور اچھا لکھوں۔تو اس میں بھی ایک فائدہ ہے یہ بہت ہی عظیم الشان خلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو آپ سب کے لئے ایک عظیم نصیحت ہے۔قابل تقلید نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق اور نعمت اخوت یاد دلائی ہے اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم رکھا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔“ پس الحمد للہ کہ حضرت مسیح موعوعلیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور مسلسل محنت کے نتیجہ میں اب جماعت میں یہ عظیم عالمی اخوت پیدا ہو چکی ہے اور اس کے عظیم الشان نمو نے ہمیں جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں مگر پھر بھی کمزوریاں ہیں اور ان کمزوریوں سے صرف نظر ہمیں نہیں کرنا چاہئے۔آخری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خطاب ملفوظات سے لیا گیا ہے جو یہ ہے۔و نیکی اور تقویٰ میں ترقی کر و خدا تعالیٰ کے فضل اور برکات اسی راہ سے