اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 600
۶۰۰ خطاب ۳۱؍ جولائی ۱۹۹۹ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات تقویٰ کی کچی جڑ بھی دل ہی میں ہے۔حضرت عقبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ نجات کیسے حاصل ہو؟ آپ نے فرمایا اپنی زبان روک کر رکھو، تیرا گھر تیرے لئے کافی ہو یعنی حرص سے بچو۔اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر معافی طلب کرو۔نجات کے حصول کے جو تین ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں ان میں ایک ہے زبان روک کر رکھو ، مطلب یہ ہے کہ جب زبان سے کوئی بات کہنا چاہو تو پہلے اس کو روک لیا کرو اور غور کر لیا کرو جب واقعی وہ بات سچی ہو اس میں کوئی لگاوٹ نہ ہو، کوئی فتنہ فساد، کوئی جھوٹ نہ ہو تو پھر وہ بات پیش کیا کرو اور پھر فرمایا تیرا گھر تیرے لئے کافی ہو اب اس میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑی تربیت کے راز ہیں وہ مائیں اور باپ جن کے گھروں میں ان کے بچوں کو سکون ملتا ہے وہی گھر ان کے لئے کافی ہوتے ہیں وہ باہر سے بھاگ کر اپنے گھروں میں آتے ہیں اور وہاں سکون حاصل کرتے ہیں تو فرمایا کہ دوسروں کے گھروں کو بڑا دیکھ کر اس کی حرص نہ کیا کرو تمہارا گھر ہی تمہارے لئے کافی ہونا چاہئے وہیں جنت بنے گی اور وہیں تمہارے لئے اور تمہاری اولاد کے لئے نجات کے سامان پیدا ہوں گے اور غلطی تو ہو ہی جاتی ہے فرمایا غلطی ہو جائے تو نادم ہو جایا کر وصرف احساس کیا کرو کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور اللہ کے حضور گڑ گڑا کر معافی مانگا کرو۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین آدمی تم اُسے پاؤ گے جود و منہ رکھتا ہو۔اب کسی آدمی کے دومنہ تو نہیں ہوا کرتے مراد یہ ہے ایک سے بات کرنے کے لئے ایک منہ ہے اور دوسرے سے بات کرنے کے لئے دوسرا منہ گویا دونوں میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے یہ لگتا ہی نہیں کہ ایک ہی منہ سے دو باتیں نکلی ہوئی ہیں۔اس کی تشریح میں فرماتے ہیں ان کے پاس آکر کچھ کہتا ہے دوسروں کے پاس جا کر کچھ کہتا ہے یعنی بڑا منافق اور چغل خور ہے۔پس اپنے متعلق آپ سب جائزہ لیتی رہیں کہ بات کرتے وقت کہیں اس بیماری کا شکار تو نہیں ہو جاتیں۔ایک کے پاس جائیں تو اس سے کچھ اور باتیں کریں اس کو خوش کرنے کے لئے دوسرے کے پاس جائیں تو اس کو خوش کرنے کے لئے اس سے کچھ اور باتیں کریں یہ بہت گہری بیماری ہے جس کی طرف حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دلائی ہے۔ایک حدیث صحیح بخاری سے لی گئی ہے جو حضرت حذیفہ کی ہے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے