اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 582

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۸۲ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء حضور نہیں کہ سوال کیا خدا سے اور بے حد تذلل اختیار کیا اور جوخدا نے دیا اور پھر اس پر راضی ہوگئے یعنی دعائیں عمر بھر کیں رو رو کر کیں لیکن جو نہیں ملا اس پر شکوہ نہیں کیا جو خدا نے دے دیا اس پر راضی ہو گیا اور یہی مضمون آپ کے بچوں پر بھی اطلاق پائے گا جب آپ ان کو سمجھا ئیں گی اور رہنے کے سلیقے سکھائیں گی۔قَنَعَتِ الْإِبِلُ وَالشَّاةَ - مَالَتْ لِمَأْواهَا وأَقْبَلَتْ نَحْوَا صَحَابِهَا۔اونٹ یا بکری جب اپنی پناہ گاہ کی طرف لوٹتے ہیں تو کہتے ہیں یہ بھی قناعت ہے۔مثلاً جب آپ کے بچے باہر نکل کر آپ کی طرف لوٹیں گے تو یہ بھی ان کا قناعت کا ایک انداز ہے یعنی باہر سے راضی نہ ہونا اور گھر سے راضی ہو جاتا۔فَنَعَ الجَبَل۔یہ چھٹا معنی بہت ہی عظیم الشان معنی ہے جس کا مطلب ہے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور یہاں قناعت میں یہ مطلب نہیں ہے کہ بلندی نہ حاصل کر سکے اور راضی ہو جائے۔قناعت کا یہ مطلب بنے گا کہ جتنی طاقت ، استطاعت ہے اس کو پوری طرح استعمال کرے اور پھر اس کے نتیجہ میں جو سر بلندی حاصل ہو وہ حاصل کر کے رہے۔یہ بھی قناعت کے لغوی معنوں میں داخل ہے۔اور ساتواں معنی بھی تھا وہ کہیں رہ گیا ہے غالبا۔بہر حال اب میں آپ کے سامنے تفصیل بیان کروں گا اس مضمون کی۔میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم میں مختلف آیات ملتی ہیں جن میں قناعت کا ہی مضمون ہے۔ان میں سے صرف دو آیات میں مثال کے طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَعْنَابِةٍ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ وَرِزْقٌ رَبَّكَ خَيْرٌ وَابْقَى (طہ :۱۳۲) اپنی آنکھیں کھینچ کر اس طرف نہ پھیلا و یعنی تمھاری نظریں پیچھا نہ کریں جو ہم نے دنیا میں بسنے والے جوڑوں کو عارضی نعمت کے طور پر عطا کیا ہے۔لِنَفْتِنَهُمْ فِیهِ اس لئے عطا فرمایا ہے کہ ان کی اس دنیا میں آزمائش کی جائے۔وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَ اَبقی اور اللہ جو رزق عطا فرماتا ہے یا اس نے جو تمہیں عطا فر مایا ہے وہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے۔اب دیکھیں حرف بحرف قناعت کا مضمون ہے۔غیروں کو جو کچھ عطا ہوا اس پر حرص نہ کرو، اُن پر حسد نہ کرو، اس پر رشک کی نگاہ نہ ڈالو۔صرف یہی نہیں بلکہ اس پر راضی ہو جاؤ جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اور یا درکھو کہ جو خدا عطا فرماتا ہے وہ تھوڑا بھی ہوتو بہتر ہے اور ابقی ہے۔ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والا ہے۔تو قناعت کے مضامین قرآن کریم میں ہر طرف پھیلے پڑے ہیں اور یہ آیت جو میں نے مثال کے طور پر پیش کی ہے یہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس مضمون کو بیان فرمارہی ہے۔