اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 543
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۴۳ خطاب ۶ امر اگست ۱۹۹۷ء حدیث اپنی صحت کے اعتبار سے ایک چمکتا ہو استارہ ہے اور موطا امام مالک کا مطالعہ کر کے دیکھیں آپ کو کہیں بھی کوئی خرابی کوئی کمزوری دکھائی نہیں دے گی۔حضرت امام مالک یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے ایک غریب عورت نے سوال کیا ایک غریب عورت نے کچھ مانگا اس دن آپ روزے سے تھیں اور گھر میں سوائے ایک روٹی کے کچھ نہ تھا اب حضرت عائشہ صدیقہ کی خوبیوں پر اللہ تعالیٰ کی نظر ( حضرت عائشہ صدیقہ کی خوبیوں پر ) کیسی تھی۔آپ کی نیکیوں کا کیا جواب خداد یا کرتا تھا یہ ایک ایسا سلوک ہے جو ہر ایسی خاتون کے متعلق ہوسکتا ہے جو خدا کی رضا کی خاطر اپنی پیاری باتیں اپنی پیاری چیزیں قربان کرنے والی ہوں۔حضرت عائشہ صدیقہ سے ایک عورت نے سوال کیا ایک روٹی کا اور اس دن آپ روزے سے تھیں اور ایک ہی روٹی تھی جس سے روزہ کھولنا تھا آپ نے خادمہ سے کہا یہ روٹی اس غریب عورت کو دے دو۔اس پر خادمہ نے کچھ ملال محسوس کیا سوچا ہوگا یہ عجیب عورت ہے ایک ہی روٹی ہے ٹکڑا دے دیتی کچھ اپنے لئے رکھ لیتی اب گھر میں روزہ کھولنے کے لئے کچھ نہیں رہا لیکن حضرت عائشہ صدیقہ نے جس یقین کے ساتھ وہ روٹی دی تھی اس کے متعلق آپ دیکھیں کہ جب شام ہوئی تو آپ کے پاس کسی عزیز نے ایک بکری کا کچھ گوشت اور اس کا باز و بطور تحفہ بھیجے۔حضرت عائشہ صدیقہ نے اسی خادمہ کو بلا کر فرمایا لکھاؤ یہ تمہاری روٹی سے کہیں بہتر ہے۔اب یہ کہنا کہ لوکھا ؤ یہ تمہاری روٹی سے کہیں بہتر ہے۔صاف بتارہا ہے کہ لونڈی کو ملال تھا اس نے سوچا تھا اور جانتی تھی کہ حضرت عائشہ کچھ نہیں کھا تیں جب تک اپنی لونڈیوں کو نہ کھلا ئیں تو اس روٹی پر اس بیچاری کی نظر تھی۔اس نے کہا ایک ہی روٹی تھی وہ میں نے کھانی تھی اور جہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ کے کردار کا تعلق ہے لازماً آپ نے اپنے لئے تھوڑی رکھی تھی اس خاتون کو زیادہ دینی تھی۔اس کو یاد رکھا اور فرمایا! لو یہ کھاؤ یہ تمہاری اس روٹی سے بہت بہتر ہے یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی قربانیوں پر نظر رکھتا تھا اور ان قربانیوں کے نتیجے میں آسمان سے آپ پر رزق نازل فرمایا کرتا تھا۔حضرت عائشہ کے متعلق بھی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل نازل ہوئے اور آپ کو سلام کہا۔اس پر حضرت عائشہ نے وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکانہ کے الفاظ کہے اس میں اور خدیجہ کے جواب میں ایک فرق ہے جو میں آپ پر کھول چکا ہوں۔حضرت خدیجہ کا بیان بہت گہرا تھا اور حضرت خدیجہ کی جوفراست اور عرفان کی گہری عزت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل میں تھی وہ ان دونوں کے جواب کے فرق سے ظاہر ہے۔اب آپس کی چولیں بھی سن لیں۔خاوند اور بیوی میں ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں جو بھی ہوتی ہیں یہ سب چیزیں نیکی کے