اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 48
حضرت خلیفہ مسح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۸ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء جب اس کا جنازہ نکلتا ہے“۔ایک مقولہ یہ ہے کہ عورت ہی اصل جہنم ہے“۔ایک یہ ہے کہ دنیا کا ہر شر عورت کے شر سے کم ہے۔ایک مقولہ یہ ہے کہ عورت اتنی بے اعتبار ہے کہ اس کی قسم کو بھی پانی پر لکھنا چاہئے۔کہ جب تک وہ گیلا پانی ہو شاید نظر آنا شروع ہو، کسی حد تک نظر آتا رہے ،اور جب وہ پانی سوکھے تو عورت کی قسم بھی ختم۔پس در اصل جو رد عمل آج آپ مغربی تہذیب میں مردوں کے مظالم کے خلاف دیکھتی ہیں ، بڑا ظلم کیا جارہا ہے کہ اسے مذاہب کے خلاف رد عمل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اسلام کو گویا اس کے مد مقابل ایک ظلم کرنے والے مذہب کے طور پر پیش کیا جار ہا ہے۔بالکل جھوٹ ہے، بالکل غلط ہے، کوئی بھی حقیقت نہیں اس الزام میں۔ان کا اپنا پس منظر کل تک اتنا بھیا نک تھا۔ان کی اپنی تہذیب اتنی ظالمانہ تھی۔ساری دنیا کی تہذیبوں پر آپ غور کر کے دیکھیں، کسی تہذیب میں کبھی عورت پر اتنے مظالم نہیں ہوئے جتنے مغربی تہذیب میں ہوئے۔جتنے مغربی تہذیب کے ایک سوسال میں ہوئے انسانی تہذیب کے ہزار ہا سال میں تمام دنیا میں ایسے مظالم نہیں ہوئے اس لئے یہ ردعمل ان کا بجا ہے لیکن غلط نشانہ کیوں بناتی ہیں؟ ان کو حق ہے اس تہذیب کے خلاف آواز بلند کریں ، اپنے ماضی کے خلاف آواز بلند کریں، مردوں کو کوسیں، جتنا چاہے کو میں مگر اپنی تہذیب کے نام پر کوسیں ، اسلام کو سامنے نشانہ رکھ کر پھر کیوں یہ ظلم کرتی ہیں۔اس لئے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اصل مجرم کون ہے۔ہرگز اسلام مجرم نہیں ! مجرم ان کی اپنی تہذیب ہے۔ان کا اپنا ماضی ہے۔یہ حوالے بہت سے اور بھی ہیں۔فی الحال میں ان کو چھوڑتا ہوں کافی نمونہ ہو گیا آپ کے سامنے۔اس کے مقابل پر ایک حوالہ میں آپ کے سامنے صرف رکھتا ہوں۔(Stanley Lane Pole) سٹینلے لین پول وہ یہ کہتا ہے کہ پین میں جو بارھویں صدی تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلامی حکومت قائم رہی ہے اس دور میں وہ عورت کے حقوق کے متعلق ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عورتوں کو ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں حاصل تھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی کہ وہ ہر قسم کی تعلیم کو حاصل کریں یہاں تک کہ اس دور میں بھی قرطبہ میں ، یعنی قر ڈوبہ، وہاں لیڈی ڈاکٹر ز موجود تھیں۔جس کا تصور سینکڑوں سال کے بعد یعنی اب اگر یورپ میں پیدا ہوا ہے اور اب لیڈی ڈاکٹر ز بکثرت ملتی ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن کل تک تو ان کو تعلیم کی ہی اجازت نہیں تھی ، کجا یہ کہ وہ لیڈی ڈاکٹر بنتیں۔ہاں witch doctors بہت سمجھی