اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 492
حضرت خلیفہ صیح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۹۲ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء رفتہ رفتہ مٹھاس کا شعور پیدا ہوا تھا۔جو چیز کسی کی بقا کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ساتھ اُس میں ایک نیا شعور عطا فرمانا شروع کیا کہ تمہاری بقا کے لئے ضروری ہے تمہیں اچھی لگتی ہے۔اب پانی دیکھ لیں کہ اُس میں مٹھاس تو نہیں ہے لیکن جب پیاس کی شدت سے انسان مر رہا ہوتو ہر میٹھی چیز سے زیادہ پانی اچھا لگتا ہے۔جب پیاس کی شدت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو شربت سے بھی نفرت ہو جاتی ہے۔آپ کا دلپسند کو کا کولا بھی بُرا لگنے لگتا ہے۔اس وقت تو دل چاہتا ہے کہ ٹھنڈا پانی ملے اور اس سے میرے دل کی پیاس بجھے۔تو وہ چیز جس میں بظاہر لذت نہیں ہے۔اس میں بھی بقا کی وجہ سے لذت ہے۔اور اس کی لذت کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب آپ موت کے کنارے پر کھڑے ہوں۔تو ہر وہ چیز جو آپ کے وجود کو بڑھانے کا موجب بنتی ہے یا قائم رکھنے کا موجب بنتی ہے وہ آپ کو پیاری لگنے لگتی ہے اور اس کا تعلق شعور کے ارتقاء سے ہے۔جس کو شعور نہ رہے مثلاً پاگل ہو جائے۔اس کو میٹھا دیں یا کڑواد میں اس کو فرق ہی نہیں پڑتا۔پاگلوں کو ہم نے دیکھا ہے مٹی بھی کھا رہے ہوتے ہیں اور بد بودار چیزوں پر بھی منہ مار رہے ہوتے ہیں۔اور آپ حیران ہوتے ہیں کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔یہ نہیں سوچتے کہ آپ بھی تو ایسے ہی ہیں۔جن چیزوں کا آپ کو شعور نہ ہو آپ وہاں بھی گندگی پر ہی منہ مارتے ہیں۔کیونکہ شعور کے نہ ہونے کے نتیجے میں آپ اچھی چیزوں کو پہچان نہیں سکتے۔پس محبت الہی کے مضمون کو سمجھنے کے لئے یہ انسانی تجارب پر غور بہت ضروری ہے۔اگر حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا عرفان نصیب ہو جائے۔اس کی ذات کی عظمت کا دل پر ایک رعب قائم ہو جائے۔اور اس سے تعارف ہو۔اور پتہ چلے کہ ہماری بقا کا ، ہماری ہر زندگی کے لمحے لمحے کا انحصار اس کی ذات پر ہے۔اگر یہ فی الحقیقت یہ سچی بات ہے اور ہے سچی بات تو ہمارے دل میں یونہی یہ بات داخل ہوگی ، جاگزیں ہوگی۔طبعا اللہ تعالیٰ سے ہماری محبت بڑھے گی۔اس کے بغیر نہیں بڑھ سکتی۔اب اس مثال کو جو میں دے رہا ہوں مزید آگے بڑھا تا ہوا بچوں کے پیار کی بات کر رہا تھا۔بچے آپ کو دراصل اس لئے پیارے ہیں کیونکہ وہ آپ کا مستقبل ہیں۔اور اگر بچے نہ ہوں تو کیسا کیساوہ عورتیں جن کی گود خالی ہو تڑپتی ہیں۔حالانکہ اگر بچے آتے ہیں تو مصیبت کے ساتھ آتے ہیں۔ان کا پیدا ہونا مصیبت ،نو مہینے ان کو پیٹ میں پالنا مصیبت ، جان کو خطرے میں ڈالنا مصیبت اور پھر ہر وقت اس کا رونا پیٹنا۔ذراسی بیماری کے وقت آپ کو مصیبت پڑ جانا۔یہ ساری مشکلات ہیں اور یہ آپ قبول