اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 472
خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات جب خدا کی محبت ان دوسری محبتوں کے ساتھ ایک ہم آہنگی اختیار کر جاتی ہے تو پھر یہ دوسری عام محبتیں پہلے سے بڑھ کر دل میں پیدا ہوتی ہیں اور ہم نے دل سے محبت کی ، انسان سے محبت کی جو ایک طبعی تمنا دل میں رکھی گئی ہے اس کے گلے پر چھری نہیں پھیرنی پڑتی۔یہ وہم دل سے نکال دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑھ کر خدا سے کس نے محبت کرنی تھی یا کون کر سکتا ہے لیکن آپ سے بڑھ کر اپنی ازواج مطہرات سے جو پیار دینے والا میں نے تو کبھی کوئی نہیں سنا۔ایسی شفقت، ایسی رحمت، اپنی اولاد سے ایسا پیار ، اپنی فوت شدہ بیوی سے ایسا پیار ، جس کے ذکر پر آپ کی آنکھیں آبدیدہ ہو جاتیں۔ایک خاتون کو آپ نے دیکھا جن کی شکل حضرت خدیجہ سے ملتی تھی بے اختیار محبت سے کھڑے ہو گئے ہیں خدیجہ! یعنی خدیجہ کی یاد کیسی صورت میں میرے سامنے آئی ہے۔تو کیا آپ کو خدا سے محبت نہیں تھی؟ سب محبت کرنے والوں سے بڑھ کر آپ کو خدا سے محبت تھی مگر اُس محبت نے پھر آپ کے دل کو واپس لوٹایا ہے اپنے رنگ دے کر۔اس لئے خدا بھی تو بنی نوع انسان سے محبت کرتا ہے اس لئے خدا بھی تو ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ اقرباء کا خیال رکھو، جو عزیز ہیں ان سے پیار کرو، اپنے بچوں کا حق ادا کر واپنے ماں باپ کے ساتھ حسن و احسان کا سلوک کروان پر اپنے رحمت کے پر جھکا دو۔یہ محبت نہیں تو اور کیا ہے؟ تو اس مضمون کو غلط نہ سمجھیں۔جب میں امریکہ سے واپس آیا تو کسی نے مجھ سے فون پر سوال کیا کہ آپ نے تو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔اب ہر دوسری محبت مٹانی پڑے گی۔میں نے کہا نہیں مٹانی نہیں پڑے گی۔خدا کی محبت کے تابع کرنی ہوگی۔اگر تم خدا کی محبت کے تابع کر دوگی، ایک خاتون تھیں جنہوں نے یہ سوال کیا ، اگر تم خدا کی محبت کے تابع کر دو گی تو یہ محبت مٹے گی نہیں پہلے سے بھی بڑھ جائے گی کیونکہ اللہ سے بڑھ کر اس کی مخلوق سے کوئی محبت نہیں کرتا۔پھر تم اللہ کی آنکھ سے بنی نوع انسان سے محبت کرو گی۔اس محبت میں ایک تقدس پیدا ہو جائے گا اس میں ایک عظمت پیدا ہو جائے گی اس میں ایک ہمیشگی داخل ہو جائے گی جو پھر مٹ نہیں سکتی۔پس سب سے زیادہ وفا دار نبی ہوا کرتے ہیں۔اُن سے بڑھ کر وفا کا کوئی تصور ہی ممکن نہیں اور وہ وفا وہ اپنے رب سے سیکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں کہ جو وفا ہم نے تجھ میں دیکھی ہے کبھی بنی نوع انسان میں ایسی وفا دکھائی نہیں دی۔اور پھر آپ فرماتے ہیں میں سوتا ہوں تو مجھے وہ دیکھ رہا ہوتا ہے، جاگ رہا ہوتا ہوںتو دیکھ رہا ہوتا ہے ہر وہ شخص جو اس سے پیار