اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 43
حضرت خلیفہ مسح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۳ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء کیا ہو۔آپ اس پہلو سے خواہ یہودیت کا مطالعہ کریں یا عیسائیت کا مطالعہ کریں یا بدھ ازم کا مطالعہ کریں یا کنفیوشس ازم کا مطالعہ کریں کسی مذہب کے ساتھ بھی اسلام کا موازنہ کر کے دیکھیں ایک مذہب بھی آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جس نے عورت کی آزادی کی تحریک چلائی ہو اور اس کے حقوق کے قیام کے لئے ایک وسیع اور عظیم تعلیم دی ہو۔ہاں بدقسمتی سے مذہب کی وہ شکلیں جو آج ہمیں نظر آتی ہیں اور ان مذاہب کے ماننے والوں ہی کی طرف سے مستند صورت میں پیش کی جاتی ہیں ان میں عورت پر ظلم کرنے کی مختلف تعلیمات ایسی ملتی ہیں جن کے بڑے بھیا نک اور گھناؤنے اثرات ان کی تہذیبوں پر پڑے اور فی الحقیقت آج کی مغربی دنیا کی آزادی کی تحریکات اس پس منظر میں شروع ہوتی ہیں جو ان کا اپنا پس منظر ہے، ان کے اپنے ماضی کے حوالے سے شروع ہوتی ہیں اور وہ کچھ جو اسلام ان کو چودہ سو برس پہلے دے چکا تھا آج تک وہ آزادی کی تحریکات اس زمانہ میں بھی عورت کو نہیں دے سکیں۔اسلام نے جو کچھ عورت کو دیا وہ کچھ آزادی کی شکل میں دیا اور کچھ بظاہر پابندیوں کی شکل میں دیا۔وہ عرب تہذیب جو عورت کو غلام بنا رہی تھی، اس کو حقوق سے محروم کر رہی تھی۔اس کے خلاف اسلام نے علم بلند کیا اور عورت کو وہ تمام حقوق بخشے جو اس سے سلب کر لئے گئے تھے اور تہذیب اور تمدن کے نام پر عورت کو جس طرح کھلونا بنایا جارہا تھا انسانی شہوات کو پورا کرنے کا، جس طرح نشانہ بنایا جا رہا تھا مردوں کی حرص و ہوا کو پورا کرنے کا اس سے آزادی پابندیوں کی صورت میں بخشی ہے۔اس لئے آج جب آپ اسلام کی پابندیوں پر نظر ڈالتی ہیں تو وہ بھی آزادی ہے اور جب آپ اسلام کے حقوق پر نظر ڈالتی ہیں تو وہ بھی آزادی ہے۔یہ دوسرا پہلو چونکہ آج کے مختصر وقت میں زیر نظر نہیں لایا جا سکے گا اس لئے اگر چہ اُس کے لئے میں مضمون کے اشارے تو لکھ لایا ہوں، لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ اُس کو کسی اور وقت کے لئے رکھنا پڑے گا۔اب میں آپ کو عرب پس منظر کے بعد یورپ کے پس منظر میں لے کر آتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ آپ کو آزادی کا پیغام دینے والی عورتیں خود کس ماضی سے تعلق رکھتی ہیں اور آج بھی کس جد و جہد میں مبتلا ہیں۔عورتوں کو سزائیں سترھویں صدی میں عورتوں کو جادو کے الزام میں موت کی سزا ئیں اس کثرت سے دی گئی