اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 424
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۲۴ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء میں نے پہلے بھی مثال دی ہے کبھی کفر کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دل کی سچی آواز آپ کے سامنے رکھنے کے لئے کہ جب میں اپنی بیوی بچیوں کے ساتھ امریکہ وغیرہ دورہ پر گیا جبکہ میری ایک خلیفہ کی حیثیت نہیں تھی ، جماعت کے ایک فرد کی طرح ہی تھا، ابھی بھی ایک فرد ہی کی طرح ہوں لیکن کچھ زائد ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں، اس وقت جب میں نے دورہ کیا تو اپنی بیوی بچیوں کو اسی طرح پردہ کرایا کہ خود اعتمادر ہیں کوئی دعوت نہیں کوئی پرواہ نہیں غافلات کی طرح زندگی گزاریں اور ڈھیلا کچھ پردہ ہو تو اتنا ہی ڈھیلا ہو جتنا پاکستان میں ڈھیلا ہوتا ہے اگر سخت ہے تو اتنا ہی سخت ہو جتنا پاکستان میں ہوتا ہے، ملک بدلنے سے پردہ نہیں بدلے گا۔اس بات سے ان کو ایک پیغام مل گیا ان کو سمجھ آگئی کہ اسلامی پردہ ایک عالمی چیز ہے۔ہر عورت جس جگہ بھی کسی پردے کو اسلامی سمجھ کر ایک دفعہ اختیار کر لیتی ہے جگہ بدلنے سے، ماحول بدلنے سے، نوکریاں بدلنے سے ، اعلیٰ درجے کی سوسائٹی میں جانے سے یا نہ جانے سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اسی طرح قائم رہتا ہے۔پس ایسا ہی ایک واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا جب ہم اپنی موٹر جو کرائے پر لی ہوئی تھی واپس کرنے کے لئے اس مرکز میں پہنچے جہاں کاریں واپس کرنی تھیں بالآخر تو میرے ساتھ میری بیٹی غالبا شو کی تھی اور ایک ہی تھی غالباً اس وقت باقیوں کو میں پیچھے اپنے جہاں بھی ہم نے رہنا تھا وہاں چھوڑ آیا تھا۔اس عورت نے مجھ سے پوچھا یہ کس قسم کا لباس پہنے ہوئے ہے میں نے کہا اس سے پوچھو یہ قید ہوئی ہے یا اپنے شوق سے ہے۔اس نے کہا میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں بالکل پرواہ نہ کرو، مجھے مزے ہیں میں یہی وہاں بھی پاکستان میں بھی اس طرح رہتی تھی یہاں بھی اسی طرح رہتی ہوں۔اب وہاں خدا تعالیٰ نے اس کو ایک نصیحت کا سامان بنانا تھا۔اچانک وہاں ایک پاکستانی عورت آگئی بڑی چنچل سی لڑکی اور بالکل بے پر دبلکہ بے پر د سے بھی کچھ زیادہ اور اس نے آتے ہی کہا لو میری چابیاں پہلے مجھے فارغ کر ووہ مجھی کہ پرانے زمانے کی عورت آئی ہوئی ہے ان سے زیادہ میری عزت ہے۔اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے پہلے فارغ کرواس نے کہا تمہیں پہلے فارغ کیوں کروں یہ پہلے آئے ہوئے ہیں۔پہلے میں ان کو فارغ کروں گی تھوڑا سا پھر وہ بجھی لیکن پھر بھی وہ اصرار کرتی رہی نہیں نہیں مجھے جلدی ہے۔اس نے کہا بالکل جلدی نہیں مگر تم مجھے یہ تو بتاؤ کہ تمہاری ٹینکی میں پڑول ہے۔یہ اس نے اس لئے پوچھا کہ وہاں دستور یہ ہے کہ وہ جب کرایہ پر کار لیتے ہیں تو بھری ہوئی ٹینکی لے کر جاتے ہیں اور واپس آکر بھری ہوئی ٹینکی واپس کرنی ہے تا کہ پٹرول کے حساب کتاب کی بحث ہی نہ پڑے۔اس نے کہا بھری ہوئی ٹینکی ہے اس نے کہا اچھا