اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 423
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۲۳ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء تعدیل پیدا کریں۔اعتدال کے ساتھ ضرورت سے زیادہ سختیاں جھاڑنی شروع کریں لیکن جو قدم بھی اٹھائیں اس میں قرآن کریم کے اس حکم کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ استعفاف کریں۔نکلیں تو دعوت دیتی ہوئی نہ نکلیں بلکہ نظروں کو جھٹکتی ہوئی ، نظروں کو جو غلط نظریں ہیں اُن کو دھتکارتی ہوئی ، ان کی امیدوں پر پانی ڈالتی ہوئی جیسے اوس پڑ جاتی ہے کسی پر ، ان معنوں میں پانی ڈالنے کا لفظ میں استعمال کر رہا ہوں اُن کی خواہش ہی پیدا نہ ہو وہ سمجھیں کہ یہ ہمارے لئے ہیں ہی نہیں اور قسم کی چیزیں ہیں۔یہ روح اگر آپ قائم رکھیں تو پھر پردہ کچھ ڈھیلا ہونا شروع ہو جائے اس روایتی پر دے سے جو آپ کو ورثے میں ملا ہے تو اس کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کا دوسری دنیا پر اچھا اثر پڑے گا اور وہاں پر دے کی روح کو تقویت ملے گی۔پس یہ سارے قصے عقل اور حکمت کے قصے ہیں روح کو سمجھیں بار بار میں یہی کہتا ہوں کہ روح کو سمجھیں اور روح کی حفاظت کریں اور آخری صورت روح کی حفاظت کی یہی ہے آپ اپنے اوپر یقین اور اعتماد پیدا کریں کہ ہم جو بھی حرکت کر رہی ہیں، جو بھی طریق اختیار کر رہی ہیں خدا سے دور لے جانے والا نہیں بلکہ خدا سے قریب لے جانے والا ہے۔یہ ہی رہنما اصول ہے جس اصول کے تابع دنیا میں جنت کی از سرنو تعمیر ہوسکتی ہے۔شجرہ طیبہ کو اس بنیادی اصول سے تقویت ملے گی کیونکہ اصول کہتے ہی جڑوں کو ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شجرہ طیبہ کی جڑیں تو دنیا ہی میں قائم ہیں ان سے الگ نہیں ہوسکتیں ان کو دنیا سے اکھیڑ کر باہر نہیں پھینکا جا سکتا مگر شاخوں کا رخ ہمیشہ آسمان کی طرف رہتا ہے۔ہمیشہ اللہ کے قریب تر ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ان کو رزق زمین سے نہیں ملتا بلکہ آسمان سے ملتا ہے یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جس کے قیام کے لئے اسلامی پردہ تشکیل دیا گیا ہے اور جس کے نتیجے میں دنیا میں جنت قائم ہوگی۔پس اس روح کو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ قرآن کن معنوں میں اس پر دے کو قائم کرنا چاہتا ہے کن معنوں میں آپ نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔یہ یادرکھیں پردہ خواہ کسی قسم کا بھی ہو جب آپ اسے ایک پرانے زمانے کی چیز سمجھ کر شرما کر اتارتی ہیں تو وہیں آپ کا دل داغ دار ہو جاتا ہے، وہیں آپ کی عزت بڑھتی نہیں بلکہ کمینگی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔احساس کمتری ہے جو آپ کو کھا رہا ہے اور اس وجہ سے اگر آپ کوئی حرکت کرتی ہیں تو یہ قطع نظر اس کے کہ وہ پردہ واقعہ اسلامی تھا یا نہیں تھا آپ کا دل غیر اسلامی ہو جاتا ہے کیونکہ دینی سمجھتے ہوئے دینی قدروں سے روگردانی کرنا اس سے شرما جانا یہ شکست کا پہلا قدم ہے۔جس کے بعد ہر دوسرا قدم شکست کی طرف اُٹھتا ہے۔