اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 404
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۰۴ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء بتائے تھے، آپ کو سہا دینے کے لئے نہیں بتائے تھے بلکہ اس لئے بتائے تھے کہ آپ اپنے سے پہلے گزرنے والی نسلوں کی قربانیوں کو یادرکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے اپنے دل میں نئے ولولے اور نئے عزم پیدا کریں اور ان ولولوں اور ان عزموں کی حفاظت کریں اور ان مشکلات کی راہ سے گزرنے کا آسان رستہ بھی میں آپ کو بتارہا ہوں۔یہ ہر مشکل راہ محبت سے آسان ہوتی ہے۔محبت خواہ دنیا کی بھی ہو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔مجنوں پر کیا گزری تھی کہ عمر بھر دشت پیمائی کرتارہا۔صحرا نوردی اس کا مقدر بن گیا لیکن اس کو اس میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ لیلیٰ کی تلاش میں صحرا صحرا کی ریت چھانتا پھرا اور اس امید پر کہ لیلیٰ کا محمل کبھی یہاں سے گزرے گا تو میں ایک نظر اس کو دیکھ لوں گا اس نے اتنی شدید مشقتیں برداشت کیں۔تو کیا اللہ کی محبت مجنوں کی محبت سے بھی کم درجے کی ہے۔لیلیٰ کی محبت سے بھی کم درجے کی ہے، کیا خدا کے عاشق مجنوں سے کم مرتبہ ہوتے ہیں۔ہرگز نہیں۔محبت میں ایک عظیم طاقت ہے، ایک نا قابل بیان قوت ہے جس کے ذریعے انسان کی کایا پلٹ جاتی ہے۔مشکل سے مشکل کام اس پر آسان ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ شعر میں نے پہلے بھی شاید آپ کو سنائے ہیں، کتنا پیارا کلام ہے، محبت کی طاقت کے متعلق فرماتے ہیں۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی اے محبت میں تجھ پر قربان جاؤں ، ” عجب آثار نمایاں کر دی تو نے حیرت انگیز آثار ظاہر گئے زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی تو نے یار کے رستے میں زخم اور مرہم کو ایک جیسا ہی بنا دیا ہے۔جیسے مرہم میں آرام ملتا ہے ویسے ہی یار کی راہ میں زخم کھاتے سے آرام ملتا ہے۔پھر فرماتے ہیں۔تا نه دیوانه شدم ہوش نہ آمد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساس کردی ( در تمین فارسی صفحه: ۲۵۸) اے محبت جب تک میں پاگل نہیں ہو گیا عشق میں ،اس وقت تک مجھے ہوش نہیں آیا۔” تانہ دیوانہ شدم “ جب تک میں دیوانہ نہیں ہو گیا ہوش نہ آمد بسرم“ میرے سر میں ہوش تو نہیں آیا۔”اے جنوں گرد تو گردم “اے جنوں میرا دل چاہتا ہے میں تیرا طواف کرتا رہوں جیسے خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے ” کہ چہ احساں کر دی تو نے مجھ پر عجیب احسان کر دیا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ کی خاطر، محمد رسول اللہ کی خاطر جو عظیم زندگی بھر کواللہ